آن لائن منی گیمز کا تاریک پہلو
آن لائن منی گیمز نے بھارت میں ایک ایسی لہر پیدا کی ہے جو کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔ تیزی سے پیسہ کمانے کا جھانسہ دے کر یہ گیمز لت کا شکار بنا دیتے ہیں، اور نتیجہ مالی تباہی، ذہنی تناؤ اور خاندانی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آن لائن منی گیمز سے لوگوں کو 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ اب ایک نئے قانون کے ذریعے اس پر مکمل پابندی لگائی جا رہی ہے۔ یہ مضمون اس خبر کو تفصیل سے بیان کرے گا، مزید تحقیق شامل کرے گا اور آن لائن منی گیمز کے نقصانات اور نوجوانوں پر منفی اثرات کو واضح کرے گا۔
کارتک کی دل دہلا دینے والی کہانی
کارتک سری نواس (بدلا ہوا نام) آج بھی آن لائن بیٹنگ کا ذکر سن کر سہم جاتے ہیں۔ تیزی سے پیسہ کمانے کے جوش میں شروع ہونے والی یہ عادت اب لت میں تبدیل ہو گئی۔ اس لت نے 26 سالہ کارتک کی جمع پونجی، سکون اور تقریباً ان کا مستقبل چھین لیا۔
2019 سے 2024 تک کارتک نے 15 لاکھ روپے سے زیادہ گنوائے۔ اس میں ان کی تین سال کی کمائی، بچت اور دوستوں اور خاندان سے لیے گئے قرض شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں، “میں نے سب کچھ آزمایا – ایپس، لوکل بکی، بین الاقوامی پلیٹ فارمز۔ میں بری طرح پھنس گیا تھا۔”
2024 تک آتے آتے کارتک قرض میں مکمل طور پر ڈوب چکے تھے۔ کارتک کی کہانی بھارت کی کبھی پھلتی پھولتی ریئل منی گیمز انڈسٹری کے سیاہ پہلو کو سامنے لاتی ہے۔ یہاں کھلاڑی آن لائن پلیٹ فارمز پر پوکر، فینٹسی سپورٹس اور دوسرے کھیلوں پر اپنے پیسے داڑھ پر لگاتے ہیں۔
یہ کہانی اکیلی نہیں ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آن لائن منی گیمز کی لت نے لاکھوں نوجوانوں کو اسی طرح تباہ کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت میں 45 کروڑ لوگ آن لائن منی گیمز سے متاثر ہوئے اور 20,000 کروڑ روپے کا نقصان اٹھایا۔
حکومت کا دعویٰ: 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان
حکومت کا دعویٰ ہے کہ آن لائن منی گیمز سے لوگوں کو 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی نقصان ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار حال ہی میں جاری کیے گئے، جو اس انڈسٹری کی تباہ کن نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 45 کروڑ لوگ اس سے منفی طور پر متاثر ہوئے اور سالانہ 20,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نقصان صرف مالی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہے۔ آن لائن جوئے کی وجہ سے خاندان ٹوٹ رہے ہیں، قرض بڑھ رہے ہیں اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق، بھارت میں آن لائن گیمبلنگ سے منسلک خودکشیوں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بھی اس موضوع پر بحث گرم ہے۔ ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ ایک شخص نے فینٹسی گیمنگ میں 96 لاکھ روپے گنوائے، جو نوجوانوں کی تباہی کی زندہ مثال ہے۔
نیا قانون: آن لائن منی گیمز پر مکمل پابندی
کچھ دن پہلے بھارت نے آن لائن منی گیمز پر مکمل پابندی لگانے والا قانون پاس کیا۔ Promotion and Regulation of Online Gaming Bill, 2025 کے تحت ایسی ایپس کو فروغ دینا یا دستیاب کروانا اب جرم ہے۔
اس قانون کے مطابق
ایسی ایپس چلانے پر 3 سال قید اور 1 کروڑ روپے جرمانہ۔
پروموشن کرنے پر 2 سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ۔
کھلاڑیوں کو مجرم نہیں بلکہ متاثرہ سمجھا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لوگوں کو جوئے کی لت سے بچانے کے لیے ہے۔ یہ قانون 2025 میں نافذ ہوا اور اب تک اس پر قانونی چیلنجز آ رہے ہیں۔
ایک کمپنی A23 نے اس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔
آن لائن منی گیمز کے نقصانات
آن لائن منی گیمز کے نقصانات بہت وسیع ہیں۔ مالی خسارے کے علاوہ، یہ لت ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ لوگ قرض میں ڈوب جاتے ہیں، خاندانی تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور کام کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں آن لائن گیمبلنگ کی وجہ سے سالانہ 20,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر، آن لائن جوئے سے منسلک نقصانات میں ذہنی صحت کے مسائل، گھریلو تشدد اور مالی دیوالیہ پن شامل ہیں۔ایک ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہ ایپس دیہی علاقوں میں لوگوں کو تباہ کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آن لائن گیمبلنگ کے نقصانات لنک
نوجوانوں پر منفی اثرات: لت، ذہنی صحت اور خودکشی
نوجوان آن لائن منی گیمز کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ یہ گیمز تیزی سے پیسہ کمانے کا جھانسہ دے کر لت کا شکار بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ: مالی خسارہ، ڈپریشن اور خودکشی۔
ایک مطالعہ کے مطابق، بھارتی نوجوانوں میں آن لائن گیمبلنگ کی لت سے ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ کئی کیسز میں، قرض کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ کالج طلباء میں یہ لت تعلیم کو متاثر کرتی ہے اور خطرناک مادوں کے استعمال کو بڑھاتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ فینٹسی بیٹنگ ایپس دیہی بھارت کو تباہ کر رہی ہیں۔
نوجوانوں کو اس لت سے بچانے کے لیے تعلیم اور شعور ضروری ہے۔ ویڈیو دیکھیں: آن لائن گیمبلنگ کی بحران۔
صنعت پر اثرات: نوکریوں کا خسارہ اور معاشی نقصان
یہ پابندی انڈسٹری کو تباہ کر سکتی ہے۔ صنعت کے مطابق، 2 لاکھ نوکریاں خطرے میں ہیں اور 31,000 کروڑ روپے کی سالانہ آمدنی ختم ہو جائے گی۔
ٹیکس ریونیو میں 20,000 کروڑ کا نقصان ہوگا۔ کئی کمپنیاں جیسے A23 اور Flutter نے کاروبار بند کر دیا۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
عالمی تناظر اور متبادل حل
عالمی سطح پر، کئی ممالک جیسے چین اور سنگاپور نے آن لائن منی گیمز پر پابندی لگائی۔
بھارت میں ریگولیشن کی بجائے پابندی کا انتخاب کیا گیا۔ متبادل بیسڈ گیمز کو ریگولیٹ کرنا اور غیر قانونی پلیٹ فارمز پر کارروائی۔ایک سیاستدان نے کہا کہ پابندی کی بجائے ریگولیشن بہتر ہے۔
حفاظت یا معاشی بحران؟
آن لائن منی گیمز کی پابندی ایک ضروری قدم ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر آپ یا کوئی جاننے والا اس لت کا شکار ہے، تو مدد حاصل کریں۔ مزید تحقیق اور شعور اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔
