آپریشن سندور پر لوک سبھا میں پرینکا گاندھی نے امت شاہ پر ذمہ داری سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ پڑھیں کیسے انہوں نے ہندو-مسلم تقسیم کی کوششوں کو ناکام کیا اور ہندوستانیوں کی یکجہتی پر زور دیا.
آپریشن سندور: لوک سبھا میں بحث کا پس منظر
لوک سبھا میں آپریشن سندور پر ہونے والی بحث نے ہندوستان کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا۔ یہ بحث نہ صرف پہلگام حملے کے تناظر میں اہم تھی بلکہ اس نے قومی سلامتی، ذمہ داری، اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے۔ آپریشن سندور، جو کہ ایک فوجی کارروائی تھی، اس کا مقصد پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا جواب دینا تھا، جس میں 25 ہندوستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حملے کو پاکستان سے منسلک دہشت گرد تنظیم ٹی آر ایف (TRF) سے جوڑا گیا، جس نے 2019 سے اپنی سرگرمیاں شروع کیں اور 2023 میں اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔
پرینکا گاندھی وادرہ نے اپنے خطاب میں اس حملے کے شکار افراد کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں “ہندوستانی” قرار دیتے ہوئے اسے ہندو-مسلم تقسیم سے بالاتر ایک قومی سانحہ قرار دیا۔ دوسری طرف، گھر منتری امت شاہ نے اپنے خطاب میں نہ صرف اپنی حکومت کا دفاع کیا بلکہ کانگریس اور اس کے سابق رہنماؤں، خاص طور پر جواہر لال نہرو، پر شدید تنقید کی۔
پرینکا گاندھی کا طاقتور خطاب
پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں جذباتی اور طاقتور انداز میں ہندوستانیوں کی یکجہتی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے میں مارے گئے 25 افراد سب ہندوستانی تھے، اور اس سانحے کو ہندو-مسلم رنگ دینے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے امت شاہ پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں اور اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پرینکا نے شہید شوبھم کی بیوی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران کوئی سیکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب روزانہ ہزاروں سیاح پہلگام جاتے ہیں تو وہاں سیکیورٹی کا انتظام کیوں نہیں تھا؟ انہوں نے کہا
“شوبھم کی بیوی نے کہا کہ میں نے اپنی دنیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے دیکھا۔ ایک سیکیورٹی گارڈ بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ اس ملک کے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا وزیراعظم، گھر منتری، یا این ایس اے کی نہیں؟”
انہوں نے مزید کہا کہ جب 26/11 کے حملے ہوئے تو اس وقت کے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور گھر منتری نے اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت میں کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔
امت شاہ کی ہندو-مسلم تقسیم کی کوشش
امت شاہ نے اپنے خطاب میں آپریشن سندور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو “ٹھوک دیا”۔ لیکن انہوں نے اسے ہندو-مسلم تنازع کا رنگ دینے کی کوشش کی، جس پر پرینکا گاندھی نے سخت اعتراض کیا۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کانگریس کے دور حکومت میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس وقت دہشت گرد “بھاگ گئے” تھے۔ انہوں نے داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن، اور دیگر دہشت گردوں کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس پر تنقید کی۔
لیکن پرینکا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی دہشت گردی کے واقعات کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے ٹی آر ایف کے 25 حملوں کا ذکر کیا، جن میں 41 سیکیورٹی اہلکار اور 27 عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو اس تنظیم کے بارے میں معلوم تھا تو اسے تین سال بعد دہشت گرد تنظیم کیوں قرار دیا گیا؟
پہلگام حملہ: ذمہ داری کس کی؟
پہلگام حملہ 22 اپریل 2025 کو ہوا، جس میں 26 ہندوستانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پرینکا نے اسے انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس طرح کا حملہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام ایک سیاحتی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، لیکن وہاں نہ سیکیورٹی تھی، نہ فوری طبی امداد کا انتظام۔
انہوں نے گھر منتری سے سوال کیا کہ وہ دو ہفتے قبل کشمیر گئے تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ حملہ کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ جبکہ گورنر جموں و کشمیر نے لاپرواہی کی ذمہ داری قبول کی، لیکن اس کے بعد کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
اخلیش یادو کا انٹیلی جنس ناکامی پر سوال
سماجوادی پارٹی کے رہنما اخلیش یادو نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے انٹیلی جنس ناکامی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پلومہ حملے میں آر ڈی ایکس سے بھری گاڑی کیسے پہنچی؟ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اس کا پتہ کیوں نہیں لگایا گیا؟ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران تین دہشت گردوں کے مارے جانے پر سوال اٹھایا کہ یہ کارروائی حملے کے فوراً بعد کیوں نہیں کی گئی؟
اخلیش نے مزید کہا کہ اگر حکومت ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے استعمال کا دعویٰ کرتی ہے تو پھر اس طرح کی ناکامی کیسے ہوئی؟ انہوں نے گالوان وادی اور پنگانگ جھیل کے تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ہندوستان کی سرزمین پر قبضہ کیا، لیکن حکومت اس پر خاموش رہی۔
امت شاہ کا دفاع اور جوابی حملہ
امت شاہ نے اپنے دفاع میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پہلگام حملے کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب یہ حملہ ہوا تو وزیراعظم بیرون ملک تھے اور واپسی پر انہوں نے فوری کارروائی کی۔ لیکن پرینکا نے اس پر سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعظم اتنی ذمہ داری سے کام کر رہے تھے تو وہ حملے کے فوراً بعد بہار میں انتخابی ریلی کیوں کر رہے تھے؟
امت شاہ نے کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے جواہر لال نہرو کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پاک مقبوضہ کشمیر (PoK) وجود میں آیا۔ انہوں نے نہرو کے چین کے ساتھ تعلقات پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ گاندھی خاندان چین کے ساتھ نرم رویہ رکھتا ہے۔
پرینکا گاندھی کی شہیدوں کے خاندانوں سے ہمدردی
پرینکا نے اپنے خطاب میں جذباتی انداز میں شہیدوں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ایک شہید کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ ان کے والد راجیو گاندھی کو دہشت گردوں نے شہید کیا تھا۔ انہوں نے امت شاہ کے اس تبصرے کا جواب دیا کہ سونیا گاندھی کے آنسوؤں کا ذکر کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کے آنسو اس وقت بہہ نکلے جب ان کے شوہر کو دہشت گردوں نے قتل کیا۔
انہوں نے شہید شوبھم کی بیوی کے درد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس درد کو سمجھتی ہیں کیونکہ وہ خود اس سے گزر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے خاندانوں کے آنسوؤں کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حکومت کی ناکامی اور انٹیلی جنس فیلئر
پرینکا نے اپنے خطاب میں ٹی آر ایف کے وجود اور اس کی سرگرمیوں پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم 2019 سے فعال تھی، لیکن اسے 2023 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی پر سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو اس تنظیم کے بارے میں معلوم تھا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام حملہ ایک بڑی انٹیلی جنس ناکامی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا انٹیلی جنس بیورو (IB) کے سربراہ یا گھر منتری نے اس کی ذمہ داری لی؟ انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا، اس طرح کے حملے ہوتے رہیں گے۔
نتیجہ: ذمہ داری سے بھاگنے کا الزام
آپریشن سندور پر لوک سبھا کی بحث نے واضح کر دیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی جماعتیں اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع کر رہی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں ہندوستانیوں کی یکجہتی پر زور دیا اور امت شاہ پر ذمہ داری سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ دوسری طرف، امت شاہ نے کانگریس کے ماضی پر تنقید کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی سیاسی بیان بازی سے شہیدوں کے خاندانوں کو انصاف ملے گا؟ کیا انٹیلی جنس ناکامیوں پر کوئی ٹھوس کارروائی کی جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ہندوستانی کے ذہن میں ہیں۔
