Site icon Urdu India Today

 افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس: افغانستان کی 94 رنز کی زبردست جیت، ایشیا کپ 2025 کا دھماکہ خیز آغاز!

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس میں دیکھیں کہ کس طرح افغانستان نے ایشیا کپ 2025 کے پہلے میچ میں ہانگ کانگ کو 94 رنز سے شکست دی۔ سیڈیق اللہ اٹل کی ناقابل شکست 73 اور عظمت اللہ عمرزئی کی تیز ترین ففٹی نے میچ کو دلچسپ بنایا۔ مکمل تجزیہ اور ویڈیو ہائی لائٹس۔

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس سے شروع کرتے ہوئے، ایشیا کپ 2025 کا آغاز ایک دھماکہ خیز میچ سے ہوا جہاں افغانستان نے ہانگ کانگ کو 94 رنز کی بھاری شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ یہ میچ ابوظہبی کے شیخ زاید سٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں راشد خان کی کپتانی میں افغان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 188 رنز بنائے اور پھر ہانگ کانگ کو صرف 94 رنز پر روک دیا۔ یہ افغانستان کی ٹی 20 ایشیا کپ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی جیت ہے۔

یہ میچ نہ صرف افغانستان کی طاقتور بیٹنگ اور باؤلنگ کا مظاہرہ تھا بلکہ یہ ایشیا کپ 2025 کی دلچسپ شروعات بھی ثابت ہوا۔ آئیے اس میچ کی تفصیلات، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور تاریخی پس منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

میچ کا خلاصہ

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کی ٹیم نے 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنائے۔ جواب میں ہانگ کانگ کی ٹیم 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر صرف 94 رنز بنا سکی۔ یہ جیت افغانستان کے لیے ٹی 20 ایشیا کپ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی ثابت ہوئی۔

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس: افغانستان کی 94 رنز کی زبردست جیت، ایشیا کپ 2025 کا دھماکہ خیز آغاز!

میچ کی شروعات افغانستان کے لیے کچھ خاص نہیں تھی۔ اوپنر رحمان اللہ گرباز صرف 8 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ لیکن سیڈیق اللہ اٹل نے محمد نبی کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور 51 رنز کی شراکت کی۔ اس کے بعد عظمت اللہ عمرزئی نے طوفانی بیٹنگ کرتے ہوئے 21 گیندوں پر 53 رنز بنائے، جو افغانستان کی ٹی 20 انٹرنیشنل میں تیز ترین ففٹی ہے۔

ہانگ کانگ کی طرف سے بابر حیات نے 39 رنز بنائے، جو ان کی ٹیم کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ لیکن باقی کھلاڑی دہائی کے ہندسے تک بھی نہ پہنچ سکے۔ افغانستان کی باؤلنگ میں گل بدین نائب نے 2 وکٹیں 8 رنز دے کر حاصل کیں، جبکہ فضل حق فاروقی نے 2 وکٹیں 16 رنز دے کر لیں۔

یہ میچ افغانستان کی طاقت اور ہانگ کانگ کی کمزوریوں کو واضح کرتا ہے۔ ابوظہبی کی پچ قدرے سست تھی، جو اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوئی، لیکن افغانستان نے اسے اچھی طرح استعمال کیا۔

افغانستان کی بیٹنگ: سیڈیق اللہ اٹل اور عظمت اللہ عمرزئی کی شاندار کارکردگی

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس کا سب سے دلچسپ حصہ افغانستان کی بیٹنگ تھی۔ سیڈیق اللہ اٹل نے 52 گیندوں پر ناقابل شکست 73 رنز بنائے، جس میں 6 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ ان کی یہ اننگز میچ کی بنیاد بنی۔ اٹل نے محمد نبی کے ساتھ 51 رنز کی شراکت کی اور پھر عظمت اللہ عمرزئی کے ساتھ 82 رنز کی طوفانی پارٹنرشپ کی۔

عظمت اللہ عمرزئی نے 21 گیندوں پر 53 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 2 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے 19ویں اوور میں لگاتار تین چھکے اور ایک چوکا لگا کر اپنی ففٹی مکمل کی۔ یہ ایشیا کپ کی تاریخ میں دوسری تیز ترین ففٹی ہے۔ عمرزئی کی یہ اننگز افغانستان کی ٹی 20 انٹرنیشنل میں تیز ترین ففٹی بھی ہے۔

محمد نبی نے 26 گیندوں پر 33 رنز بنائے، جو ٹیم کو استحکام فراہم کرنے میں اہم تھے۔ ابراہیم زدران اور گل بدین نائب سستے میں آؤٹ ہو گئے، لیکن آخری اوورز میں راشد خان اور کریم جنت نے بھی چند رنز کا اضافہ کیا۔

افغانستان کی یہ بیٹنگ لائن اپ ایشیا کپ 2025 میں دیگر ٹیموں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ہانگ کانگ کی باؤلنگ اور فیلڈنگ کی کمزوریاں

ہانگ کانگ کی باؤلنگ میں کچھ اچھے لمحات تھے، لیکن فیلڈنگ نے انہیں مایوس کیا۔ کنچیت شاہ نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عتیق اقبال اور احسان خان نے ایک ایک وکٹ لی۔ ایوش شکلا نے بھی 2 وکٹیں حاصل کیں۔

لیکن ہانگ کانگ نے فیلڈنگ میں 8 کیچ چھوڑے، جو میچ کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ کپتان یاسیم مرتضا نے کہا کہ وہ افغانستان کو 150 رنز تک روکنا چاہتے تھے، لیکن فیلڈنگ کی غلطیوں نے انہیں 188 رنز تک پہنچنے دیا۔

یہ فیلڈنگ کی کمزوریاں ہانگ کانگ کی ٹیم کو مزید میچوں میں مہنگی پڑ سکتی ہیں۔

ہانگ کانگ کی بیٹنگ: بابر حیات کی جدوجہد

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس میں ہانگ کانگ کی بیٹنگ ایک مایوس کن کہانی تھی۔ بابر حیات نے 43 گیندوں پر 39 رنز بنائے، جس میں 3 چوکے شامل تھے۔ کپتان یاسیم مرتضا نے 16 رنز کا اضافہ کیا۔

لیکن باقی ٹیم ناکام رہی۔ زی شان علی 5، کنچیت شاہ 6، کلہان چلو 4 رنز بنا سکے۔ انشومن رتھ اور نزاکت خان کا کھاتہ بھی نہ کھلا۔ ہانگ کانگ کی ٹیم پاور پلے میں 23/4 پر تھی، جو ایشیا کپ کی تاریخ میں دوسرا بدترین پاور پلے سکور ہے۔

دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے، جو ان کی بیٹنگ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

افغانستان کی باؤلنگ: گل بدین نائب اور فضل حق فاروقی کی تباہ کن گیند بازی

افغانستان کی باؤلنگ میچ کا ہیرو ثابت ہوئی۔ گل بدین نائب نے 2 وکٹیں صرف 8 رنز دے کر حاصل کیں۔ فضل حق فاروقی نے 2 وکٹیں 16 رنز دے کر لیں۔ عظمت اللہ عمرزئی، راشد خان اور نور احمد نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

راشد خان نے اپنے اوورز میں صرف 10 رنز دیے اور ایک وکٹ لی۔ نور احمد اور اے ایم غزنفر نے بھی اچھی باؤلنگ کی۔ یہ باؤلنگ اٹیک افغانستان کو ایشیا کپ 2025 میں مضبوط امیدوار بناتا ہے۔

تاریخی پس منظر: افغانستان اور ہانگ کانگ کے پچھلے مقابلے

افغانستان اور ہانگ کانگ کے درمیان یہ پہلا ایشیا کپ میچ تھا، لیکن پچھلے ٹی 20 میچوں میں افغانستان کا پلڑا بھاری ہے۔ 2018 کے ورلڈ کپ کوالیفائر میں ہانگ کانگ نے افغانستان کو 30 رنز سے شکست دی تھی (ڈی ایل ایس میتھڈ)، جو ان کی سب سے بڑی جیت تھی۔

لیکن حالیہ میچوں میں افغانستان نے غلبہ حاصل کیا ہے۔ 2024 کے ایک میچ میں ہانگ کانگ نے افغانستان اے کو شکست دی، لیکن مکمل ٹیم کے خلاف وہ کمزور رہے۔ (X post)

افغانستان کی حالیہ کارکردگی ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کی سیمی فائنلسٹ کی حیثیت سے شاندار ہے۔

کھلاڑیوں کے پروفائلز اور اعداد و شمار

سیڈیق اللہ اٹل: 23 سالہ اوپنر، جو افغانستان کی نئی نسل کا ستارہ ہے۔ انہوں نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں 10 میچوں میں 250 رنز بنائے ہیں۔

عظمت اللہ عمرزئی: آل راؤنڈر، جو بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں کمال کرتے ہیں۔ ان کی تیز ترین ففٹی افغانستان کی تاریخ میں ریکارڈ ہے۔

راشد خان: کپتان اور لیگ اسپنر، جو دنیا کے بہترین ٹی 20 باؤلرز میں سے ایک ہیں۔ ان کے پاس 150 سے زیادہ ٹی 20 وکٹیں ہیں۔

بابر حیات: ہانگ کانگ کے تجربہ کار بیٹسمین، جو ایشیا کپ کوالیفائرز میں شاندار فارم میں تھے۔

یہ اعداد و شمار میچ کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔

میچ کا تجزیہ: افغانستان کی جیت کی وجوہات

افغانستان بمقابلہ ہانگ کانگ ہائی لائٹس کا تجزیہ کرتے ہوئے، افغانستان کی جیت کی بنیادی وجہ ان کی گہرائی تھی۔ بیٹنگ میں اٹل اور عمرزئی کی شراکت، باؤلنگ میں متنوع اٹیک اور فیلڈنگ میں برتری۔ ہانگ کانگ کی فیلڈنگ اور بیٹنگ کی ناکامی نے میچ کو یک طرفہ بنا دیا۔

کپتان راشد خان نے شیڈیولنگ پر تنقید کی، کہ ٹیم کو ہر میچ کے لیے ابوظہبی کا سفر کرنا پڑتا ہے، جو تھکا دینے والا ہے۔ یہ جیت افغانستان کو گروپ بی میں مضبوط پوزیشن دیتی ہے۔

ایشیا کپ 2025 کی اگلی میچز اور افغانستان کی پوزیشن

ایشیا کپ 2025 میں افغانستان کا اگلا میچ بنگلہ دیش کے خلاف 16 ستمبر کو ہے، پھر سری لنکا کے خلاف 18 ستمبر۔ یہ گروپ بی کے سخت مقابلے ہیں۔ ہانگ کانگ کا اگلا میچ سری لنکا سے ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے کرک انفو دیکھیں 

Exit mobile version