بہار میں قانون و نظم کی تباہی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ آئی سی یو میں قتل سے لے کر انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی تک، جانئے کیا ہو رہا ہے بہار میں۔
بہار میں قانون و نظم کا بحران
بہار، جو کبھی اپنی ثقافتی اور تاریخی ورثے کے لیے جانا جاتا تھا، آج کل ایک ایسی تصویر پیش کر رہا ہے جو کسی سنسنی خیز کرائم فلم سے کم نہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات، خاص طور پر पटنا کے پاراس ہسپتال میں آئی سی یو کے اندر ایک مریض کے قتل نے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ یہ واقعات بہار میں قانون و نظم کی بدتر صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان واقعات کی تفصیلات، حکومتی ردعمل، اور انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی کے بارے میں بات کریں گے۔

حالیہ واقعات: آئی سی یو میں قتل سے سنسنی خیزی
پٹنہ کے پاراس ہسپتال میں پیش آنے والا تازہ واقعہ بہار میں قانون و نظم کی بدحالی کی ایک واضح مثال ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں چند مسلح افراد ہسپتال کے آئی سی یو میں گھس کر ایک مریض، چندن مشرا، کو گولی مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔ یہ واقعہ اتنا خوفناک ہے کہ اسے دیکھ کر کوئی بھی ہکا بکا رہ جائے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور بے خوف و خطر ہتھیار لہراتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے مقصد کو پورا کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل گوپال کھیمکا اور اجے جھا کے قتل جیسے واقعات بھی بہار کی سڑکوں پر خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ ان واقعات نے نہ صرف عوام میں خوف پیدا کیا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا بہار میں قانون و نظم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے؟
حکومتی ردعمل: عجیب و غریب بیانات
بہار میں قانون و نظم کی اس خرابی پر حکومتی عہدیداروں اور وزراء کے بیانات نے عوام کے غصے کو مزید بھڑکایا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ڈی جی) کندن کرشنن کا کہنا ہے کہ “مئی اور جون کے مہینوں میں کسان فارغ ہوتے ہیں، اس لیے اس طرح کے جرائم بڑھ جاتے ہیں۔” یہ بیان نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ایک ذمہ دار عہدیدار کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا جرائم کی ذمہ داری کسانوں پر ڈال دینا مناسب ہے؟
اسی طرح، وزیر اشوک چوہدری نے اس واقعے پر کہا کہ “ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں پتا۔” یہ بیانات حکومتی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ عوام یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر وزراء اور پولیس اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائیں تو پھر کون عوام کی حفاظت کرے گا؟
انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی: ایک نیا تنازع
بہار میں قانون و نظم کی خرابی کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی نے بھی سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہا ہے اور ووٹر لسٹ سے 35 لاکھ لوگوں کے نام ہٹانے کی تیاری کر رہا ہے۔ تیجسوی نے اسے “لوکتانترک قتل” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد ایک خاص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن کے خصوصی گہرائی سے نظرثانی (SIR) پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل شفاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کا عمل خاص طور پر ان علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں اپوزیشن کی حمایت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی خاموشی اور صحافیوں پر ایف آئی آر درج کرنے جیسے اقدامات نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
صحافیوں پر دباؤ: آزادی صحافت خطرے میں
بہار میں قانون و نظم کی خرابی اور انتخابی عمل کے مسائل کو اجاگر کرنے والے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مشہور صحافی اجیت انجم اور دیگر نامی گرامی رپورٹرز پر ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں۔ تیجسوی یادو نے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو صحافی زمینی حقائق کو سامنے لا رہے ہیں، انہیں دبایا جا رہا ہے تاکہ سچ کو چھپایا جا سکے۔

بہار میں قانون و نظم کی موجودہ صورتحال: اعداد و شمار
سپریا شرینت کے مطابق، گزشتہ 17 دنوں میں بہار میں 46 قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بہار میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پٹنہ، جو کہ ریاست کا دارالحکومت ہے، وہاں بھی جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاراس ہسپتال کا واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی، حتیٰ کہ ہسپتال جیسے حساس مقامات بھی۔
بہار میں حالیہ جرائم کے اعداد و شمار
| واقعہ | تعداد | مقام |
|——-|——–|——-|
| قتل | 46 | پورا بہار |
| مسلح ڈکیتی | 112 | پٹنہ، دربھنگہ، مظفر پور |
| دیگر جرائم | 305 | مختلف اضلاع |
سیاسی ردعمل: اپوزیشن کا احتجاج
اپوزیشن جماعتیں، خاص طور پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس، بہار میں قانون و نظم کی خرابی اور الیکشن کمیشن کی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ تیجسوی یادو نے نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر بھی براہ راست حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اور ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کا عمل ایک “منظم سازش” ہے۔
اسی طرح، کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ بہار میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
عوام کا ردعمل: خوف اور غصہ
بہار کی عوام اس وقت خوف اور غصے کی مخلوط کیفیت سے گزر رہی ہے۔ پاراس ہسپتال جیسے واقعات نے عام آدمی کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومتی نااہلی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے تو بہار کے حالات کو “گنڈا راج” سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ سپریا شرینت نے اپنے بیان میں کہا۔
کیا بہار میں کوئی امید باقی ہے؟
بہار اس وقت ایک ایسی فلم کا منظر پیش کر رہا ہے جو نہ صرف ڈرامائی ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ قانون و نظم کی خرابی، حکومتی نااہلی، اور انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی نے بہار کو ایک بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جب تک حکومتی عہدیدار اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور الیکشن کمیشن شفافیت کے ساتھ کام نہیں کرتا، تب تک اس صورتحال میں بہتری کی امید کم ہے۔
عوام اور اپوزیشن کی آواز بلند ہو رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس آواز کو سنا جائے گا؟ بہار کے لوگوں کو اب اپنی حفاظت اور اپنے ووٹ کے حق کے لیے خود ہی آگے آنا ہوگا۔