حزب اللہ نے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جانئے اس تنازع کی تازہ تفصیلات اور عالمی ردعمل۔
حزب اللہ کا اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ
حزب اللہ، لبنان کی طاقتور عسکری تنظیم، نے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تنظیم کے رہنما نعیم قاسم نے واضح کیا کہ ہتھیار ڈالنے کی کوئی بھی تجویز صرف اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایک بڑی خبر یہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
حزب اللہ کا اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کا فیصلہ
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے بدھ کے روز ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ تنظیم ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے والے دراصل اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ بیان اسرائیل کی جانب سے فواد شکر کی ٹارگٹڈ ہلاکت کی پہلی برسی پر دیا گیا، جو حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ نعیم قاسم نے کہا، “ہتھیار ڈالنا اسرائیل کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ ہم اپنی قوم اور سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔”
اس بیان سے حزب اللہ اسرائیل تنازع میں ایک نئی شدت پیدا ہوئی ہے، کیونکہ اسرائیل کو لبنان پر فوجی کارروائی کا ایک اور موقع مل سکتا ہے۔
فلسطین کو مغربی ممالک کی تسلیم: ایک تاریخی موڑ
ایک غیر معمولی پیش رفت میں، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں اپنی جارحیت جاری رکھی تو برطانیہ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔
اسی طرح، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ 2026 میں عام انتخابات کرائے، جن میں حماس کا کوئی کردار نہ ہو۔ کینیڈا کے سرکاری بیان کے مطابق، یہ فیصلہ فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے۔
فرانس نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مغربی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا، جبکہ 140 سے زائد ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس فیصلے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا اپنے ممالک میں فلسطینی ریاست قائم کریں۔ یہ بیان اسرائیل کے بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
اسرائیل کی جارحیت اور غزہ میں تباہی
غزہ میں اسرائیلی حملوں نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے امدادی سامان لینے والے 25 افراد کو نشانہ بنایا، جس میں 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر، 49 امدادی کارکن اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ میں بھوک اور تباہی کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔
عالمی دباؤ اور حزب اللہ کی حکمت عملی
امریکہ لبنان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا سرکاری فیصلہ کرے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال نومبر میں طے شدہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنے جنگجوؤں کو لتانی ندی کے شمال میں منتقل کرنا تھا، لیکن تنظیم نے اپنے ہتھیار مکمل طور پر سونپنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب، حزب اللہ نے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کر رہی ہے، لیکن اس کا حتمی فیصلہ لبنان کے اندرونی حالات پر منحصر ہے۔ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیلی حملے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اور انہیں فوری طور پر روکنا ہوگا۔
مستقبل کے امکانات اور نتائج
حزب اللہ اسرائیل تنازع کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر اسرائیل لبنان پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتا ہے تو اس سے نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، فلسطین کی تسلیم کے مغربی ممالک کے فیصلے سے اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکی عوام میں بھی اسرائیل کی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے بھی نیتن یاہو کے خلاف ممکنہ کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔
حزب اللہ اسرائیل تنازع ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حزب اللہ کا ہتھیار نہ ڈالنے کا فیصلہ اور مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کی تسلیم نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی جارحانہ پالیسیاں جاری ہیں۔
اس تنازع کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیا فلسطین کی تسلیم خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گی؟ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں، اور اس موضوع پر تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں.
