راہل گاندھی احتجاج میں بھارتی اپوزیشن لیڈرز کو الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرے کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تھا، جو مودی حکومت کے لیے چیلنج بن رہا ہے۔ مزید تفصیلات اور تحقیق یہاں پڑھیں۔
مقدمہ اور پس منظر
راہل گاندھی احتجاج بھارتی سیاست کا ایک اہم موڑ ہے۔ 11 اگست 2025 کو نئی دہلی میں، کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی سمیت تقریباً 300 اپوزیشن لیڈرز کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلی اور الیکشن کے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھانے کے لیے کیا گیا تھا۔

بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، میں الیکشن کی ساکھ پر ایسے سوالات کم ہی اٹھتے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں اپوزیشن پارٹیز، خاص طور پر کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) الیکشن جیتنے کے لیے ووٹر لسٹوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ یہ احتجاج پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کی شکل میں تھا، لیکن پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین کو روک لیا۔
راہل گاندھی نے کہا، “یہ لڑائی سیاسی نہیں، بلکہ آئین کو بچانے کی ہے۔ ہم صاف اور خالص ووٹر لسٹ چاہتے ہیں۔” یہ بیان احتجاج کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
رحول گاندھی احتجاج کی تفصیلات
احجاج کی شروعات پارلیمنٹ سے ہوئی، جہاں اپوزیشن لیڈرز نے نعرے لگائے اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے تقریباً 300 لیڈرز کو حراست میں لے لیا، جن میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی ودرا، اکھلیش یادو، اور دیگر شامل تھے۔ مظاہرین نے “الیکشن چوری” کے نعرے لگائے اور الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن BJP کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی اور دیگر لیڈرز بسوں میں لادے جا رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران TMC کی ایم پی محوا موئترا بے ہوش ہو گئیں، جو احتجاج کی شدت کو دکھاتا ہے۔
چند گھنٹوں بعد تمام لیڈرز کو رہا کر دیا گیا، لیکن یہ واقعہ بھارتی سیاست میں تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔
اپوزیشن کے الزامات
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں یا ڈپلیکیٹ اندراج کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر بہار میں، جہاں ریاستی الیکشن ہونے والے ہیں، الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ غریب ووٹرز کو ووٹ سے محروم کرنے کی سازش ہے۔
گذشتہ سال کے پارلیمنٹری الیکشن میں BJP نے اکثریت کھو دی تھی اور اتحادیوں کی مدد سے حکومت بنائی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) اور گنتی کے عمل میں بھی دھاندلی ہوئی۔ رحول گاندھی نے کہا، “ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ ECI BJP کے لیے کام کر رہا ہے۔”
ایک X پوسٹ میں، اپوزیشن لیڈرز نے #VoteChori کا ہیش ٹیگ استعمال کیا، جو سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔
حکومت اور الیکشن کمیشن کا جواب
بی جی پی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر دھرمیندر پرادھان نے کہا، “اپوزیشن انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ وہ مسلسل ہار رہے ہیں۔” الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی معمول کا عمل ہے، جو مردہ ووٹرز یا منتقل ہونے والوں کو ہٹانے کے لیے کی جاتی ہے۔ تمام شکایات کی تحقیقات کی جاتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں کو معلومات شیئر کی جاتی ہیں۔
ECI نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ ثبوت پیش کریں، لیکن اب تک کوئی ٹھوس دستاویزات نہیں دی گئیں۔
مزید تحقیق اور حقائق
مزید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ احتجاج صرف ایک دن کا نہیں، بلکہ ایک تحریک کا حصہ ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ مودی کی پارٹی الیکشن کو متاثر کر رہی ہے، جو مودی کے 11 سالہ دورِ حکومت کے لیے چیلنج ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے لیڈرز کو مختصر حراست میں لیا، اور احتجاج بہار کی ووٹر لسٹوں پر تھا۔ ڈان نیوز نے بتایا کہ یہ “جمہوریت کا قتل” ہے۔
سوشل میڈیا پر، X پر متعدد پوسٹس میں #VoteChori ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ راہل گاندھی نے ECI کو دھمکی دی کہ وہ ملوث افسران کو نہیں چھوڑیں گے۔ یوٹیوب ویڈیوز میں احتجاج کی لائیو کوریج دستیاب ہے۔
اثرات اور تجزیہ
یہ راہل گاندھی احتجاج مودی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کی ساکھ پر سوال اٹھنے سے BJP کی ساکھ متاثر ہو گی، خاص طور پر جب کہ بہار الیکشن قریب ہیں۔
اپوزیشن کی حالیہ ہاروں کے بعد، یہ احتجاج انہیں متحد کر رہا ہے۔ لیکن اگر ثبوت نہ پیش کیے گئے تو یہ الزامات بوگس ثابت ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بحث تیز ہے، جہاں کچھ لوگ اسے “جمہوریت کی لڑائی” کہہ رہے ہیں۔
راہل گاندھی احتجاج بھارتی جمہوریت کی ایک اہم مثال ہے، جہاں اپوزیشن الیکشن کی شفافیت کے لیے لڑ رہی ہے۔ اگرچہ حکومت الزامات کو مسترد کر رہی ہے، لیکن یہ معاملہ عدالتوں یا عوامی بحث میں جا سکتا ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے فالو کریں۔