Site icon Urdu India Today

راہل گاندھی کا سنسنی خیز الزام: مودی ووٹ چوری کرکے بنا وزیراعظم

راہل گاندھی نے نریندر مودی پر ووٹ چوری کے ذریعے وزیراعظم بننے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کرناٹک کے لوک سبھا انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے شفافیت کا مطالبہ کیا۔ پڑھیں مکمل تفصیلات۔

راہل گاندھی کے الزامات: ووٹ چوری کا دعویٰ

8 اگست 2025 کو بنگلور کے فریڈم پارک میں راہل گاندھی نے ایک زوردار ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں لوک سبھا انتخابات کے دوران ووٹ چوری کی گئی، جو کہ نہ صرف ایک انتخابی جرم ہے بلکہ جمہوریت اور آئین کے خلاف سنگین سازش ہے۔ راہل نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن پچھلے دس سالوں کی الیکٹرانک ووٹر لسٹ فراہم کرے تو وہ ثابت کر دیں گے کہ نریندر مودی چوری سے وزیراعظم بنے ہیں۔

راہل گاندھی کا سنسنی خیز الزام: مودی ووٹ چوری کرکے بنا وزیراعظم

یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب راہل گاندھی نے 7 اگست کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس کی اور کرناٹک کی ایک اسمبلی سیٹ، مہادیوپورہ، کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سیٹ پر ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑ کی گئی، جس میں ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کی ہیرا پھیری شامل ہے۔

کرناٹک کے فریڈم پارک سے اٹھتی آواز

فریڈم پارک، جہاں سے راہل گاندھی نے اپنی ووٹ چوری کی مہم شروع کی، کرناٹک کے الیکشن افسران کے صدر دفتر سے چند فاصلے پر واقع ہے۔ یہ وہی تاریخی مقام ہے جہاں 8 اگست 1942 کو بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز ہوا تھا۔ راہل نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری جمہوریت کے خلاف ایک مجرمانہ فعل ہے اور اس کے ذمہ داروں کو ایک ایک کرکے پکڑا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے الیکٹرانک ڈیٹا مانگا گیا، لیکن کمیشن نے لاکھوں کاغذات فراہم کیے، جو کہ عملی طور پر جانچنا ناممکن ہے۔ راہل نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن شفاف ہے تو وہ الیکٹرانک ڈیٹا کیوں نہیں دیتا؟

الیکشن کمیشن کا کردار اور شفافیت پر سوالات

الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، جسے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لیکن راہل گاندھی کے الزامات نے اس کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ مل کر ووٹ چوری کی سازش میں ملوث ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا تھا کہ پولنگ بوتھس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ میں 3600 سال لگ سکتے ہیں۔ راہل نے اس بیان کو “بکواس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جب ڈیٹا کو ہارڈ ڈرائیوز اور سرورز میں آسانی سے محفوظ کیا جا سکتا ہے، یہ عذر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو وہ ڈیجیٹل ڈیٹا کیوں نہیں دیتا؟

مزید برآں، دسمبر 2024 میں الیکشن کمیشن نے پولنگ بوتھ کی ویڈیو فوٹیج کو 45 دن بعد تلف کرنے کا قانون بنایا، جس پر راہل نے اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون اس لیے بنایا گیا تاکہ ہریانہ اور مہاراشٹر جیسے انتخابات میں شام 5 بجے کے بعد ووٹنگ میں غیر معمولی اضافے کے الزامات کی جانچ نہ ہو سکے۔

ووٹ چوری کے ثبوت: اعداد و شمار کی حقیقت

راہل گاندھی نے مہادیوپورہ اسمبلی سیٹ کے اعداد و شمار پیش کیے، جو کہ 7 فٹ اونچے کاغذات کے ڈھیر کی شکل میں تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سیٹ پر
گیارہ ہزار (11,000) ڈپلیکیٹ ووٹرز پائے گئے۔
چار ہزار (4,000) ووٹرز کے پتے جعلی تھے۔
ایک ہی پتے پر 80 ووٹرز رجسٹرڈ تھے، جو کہ حقیقت میں موجود نہیں تھے۔
تینتیس ہزار (33,000) سے زائد ووٹرز نے پہلی بار فارم بھرا، جن میں سے کچھ کی عمریں 95 اور 98 سال تھیں۔

انہوں نے ایک ووٹر، شکون رانی، کا ذکر کیا، جو مبینہ طور پر 70 سال کی عمر میں پہلی بار ووٹر بنیں اور ان کا نام دو بار ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا۔ راہل نے کہا کہ اگر الیکٹرانک ڈیٹا مل جائے تو وہ ثابت کر دیں گے کہ نریندر مودی کی جیت چوری پر مبنی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ نے راہل کے دعوؤں کی تصدیق کی، جس میں بتایا گیا کہ ایک پتے پر 80 ووٹرز رجسٹرڈ تھے، لیکن وہاں کوئی ووٹر موجود نہیں تھا۔ اسی طرح بہار کے مظفر پور کے بھگوان پورہ علاقے میں بھی ایک گھر میں 250 ووٹرز کے رجسٹرڈ ہونے کے الزامات سامنے آئے۔

الیکشن کمیشن کا ردعمل اور شپتھ پتر کا مطالبہ

الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان سے شپتھ پتر (Affidavit) طلب کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بغیر شپتھ پتر کے وہ ان الزامات کی جانچ نہیں کر سکتا۔ راہل نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئین کے سامنے حلف اٹھایا ہے اور وہ شپتھ پتر دینے کے بجائے اپنے دعوؤں کو ثابت کریں گے۔

کمیشن کے اس رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اگر وہ شفاف ہے تو وہ الیکٹرانک ڈیٹا کیوں نہیں دیتا؟ راہل نے کہا کہ کمیشن کا یہ رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

میڈیا کی خاموشی اور عوامی ردعمل

راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کو میڈیا نے خاطر خواہ کوریج نہیں دی۔ دی ٹیلیگراف اور امر اجالہ جیسے اخبارات نے اس خبر کو پہلے صفحے پر جگہ نہیں دی، بلکہ چوتھے یا اندرونی صفحات پر چھاپا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا میڈیا جان بوجھ کر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے؟

اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی راہل کے ٹویٹس کو “گمراہ کن” قرار دیا گیا، لیکن فیکٹ چیکرز جیسے محمد زبیر اور پراتیک سنہا نے ان کے دعوؤں کی حمایت کی۔ زبیر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا راہل کے دعوؤں سے مطابقت رکھتا ہے۔

ووٹ چوری سے جمہوریت کو خطرہ؟

راہل گاندھی کے الزامات نے بھارت کی جمہوریت پر ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اگر ووٹ چوری کے الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف انتخابی عمل کی ساکھ کو داغدار کرتا ہے بلکہ عوام کے بنیادی حق—ووٹ کے حق—کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں، جن میں کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، اور سماجوادی پارٹی شامل ہیں، الیکشن کمیشن سے شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے کمیشن کو “بی جے پی کا غلام” قرار دیا، جبکہ اکھلیش یادو اور سنجے سنگھ نے بھی ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کے الزامات لگائے۔

راہل گاندھی نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو چھوڑیں گے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری جمہوریت کے خلاف ایک “دہشت گرد حملہ” ہے، اور اس کے ذمہ داروں کو سزا ضرور ملے گی۔

Read More 

Exit mobile version