سومیا شری رشی کیس نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیا بروقت کارروائی سے اس طالبہ کی جان بچائی جا سکتی تھی؟ کالج انتظامیہ کی ناکامی، سیاسی تنازعات اور نظام کی خامیوں پر ایک گہری نظر
سومیا شری رشی کیس کا پس منظر
اڑیسہ کے بالی شور جیلے میں واقع فکیر موہن کالج کی بی ایڈ کی طالبہ سومیا شری رشی کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سومیا، جو کہ اکھیل بھارتیہ ودیارتی پریشد (اے بی وی پی) کی فعال رکن تھی، نے چھ ماہ تک کالج کے ایک پروفیسر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ لیکن اس کی شکایات پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ مایوسی کے عالم میں سومیا نے کالج کے پرنسپل آفس کے سامنے خود کو آگ لگا لی اور شدید زخمی حالت میں بھونیشور کے ایمس ہسپتال میں دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکی۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک طالبہ کی موت کی داستان ہے بلکہ نظام کی خامیوں، کالج انتظامیہ کی لاپرواہی اور سیاسی مفادات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ سومیا نے اپنی آواز بلند کی، لیکن اسے خاموش کر دیا گیا۔ کیا اس کی جان بچائی جا سکتی تھی؟ یہ سوال ہر ایک کے ذہن میں ہے۔
کالج انتظامیہ کی ناکامی
سومیا شری رشی کیس میں فکیر موہن کالج کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سومیا نے پروفیسر سمیر کمار ساہو پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ ان کے مطابق، پروفیسر ساہو نہ صرف جنسی مراعات مانگ رہے تھے بلکہ اسے فیل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ وہ سومیا کی کلاس سے حاضری کم کر دیتے تھے اور اسے کلاس سے نکال دیتے تھے۔
کالج انتظامیہ نے اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایک شکایتی کمیٹی بنائی، لیکن اس کمیٹی نے پروفیسر ساہو کو کلین چٹ دے دی۔ رپورٹس کے مطابق، کمیٹی کی جانب سے کی گئی تحقیقات غیر جانبدارانہ نہیں تھی، اور اس میں کئی خامیاں پائی گئیں۔ بالی شور کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ چندر سارنگی نے بھی تسلیم کیا کہ تحقیقات میں جانبداری نظر آتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کالج انتظامیہ نے چھ ماہ تک سومیا کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہوتا، تو کیا یہ المناک انجام ٹل سکتا تھا؟
سیاسی تنازعات: بی جے پی اور کانگریس کی الزام تراشی
سومیا شری رشی کیس نے سیاسی میدان کو بھی گرم کر دیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے 15 جولائی 2025 کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ سومیا کی موت بی جے پی کے نظام کی ناکامی کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے اسے ایک “منظم قتل” قرار دیا اور کہا کہ سومیا کو انصاف دلانے کے بجائے اسے دھمکایا گیا، ہراساں کیا گیا اور بار بار ذلیل کیا گیا۔
اس ٹویٹ کے جواب میں مرکزی تعلیمی وزیر دھرمیندر پردھان نے راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ ایک سنگین اور حساس معاملے پر “سستی سیاست” کر رہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دھرمیندر پردھان خود ماضی میں اسی طرح کے واقعات پر سیاسی بیانات دے چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، جنوری 2018 میں اڑیسہ کے ایک واقعے پر انہوں نے نوین پٹنائک حکومت پر قانون و انتظام کی ناکامی کا الزام لگایا تھا۔ اسی طرح جنوری 2019 میں کندھمال کے ایک واقعے پر انہوں نے کہا تھا کہ خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں اور قانون و انتظام تباہ ہو چکا ہے۔
سومیا شری رشی کیس میں دھرمیندر پردھان کے اس دوغلے رویے پر آلٹ نیوز کے محمد زبیر نے ان کے پرانے ٹویٹس کو اجاگر کیا، جس سے بی جے پی کی منافقت واضح ہوتی ہے۔ جب بات غیر بی جے پی ریاستوں جیسے مغربی بنگال کی ہوتی ہے، تو بی جے پی لیڈرز فوراً صدر راج کی مانگ کرتے ہیں، لیکن جب اڑیسہ جیسے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبے میں کوئی واقعہ ہوتا ہے، تو وہ اپوزیشن سے سیاست نہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
کیا بروقت کارروائی سے جان بچائی جا سکتی تھی؟
سومیا شری رشی کیس ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح نظام کی سست روی اور لاپرواہی ایک زندگی کو ختم کر سکتی ہے۔ اگر کالج انتظامیہ نے سومیا کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہوتا اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہوتی، تو شاید سومیا آج زندہ ہوتی۔ بالی شور کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ چندر سارنگی نے بتایا کہ سومیا نے 2 جولائی کو ان سے ملاقات کی تھی اور اپنی شکایت بتائی تھی۔ سارنگی نے پرنسپل اور ایس پی سے بات کی، لیکن انہوں نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا ایک رکن پارلیمنٹ کی ذمہ داری صرف فون کال تک محدود تھی؟ جنسی ہراسانی ایک سنگین جرم ہے، اور اس کے لیے ایف آئی آر درج کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت ایف آئی آر درج کی گئی ہوتی اور پروفیسر ساہو کو معطل کیا گیا ہوتا، تو شاید سومیا کو اس انتہائی قدم اٹھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
سماجی اور قانونی چیلنجز
سومیا شری رشی کیس نے نہ صرف کالج انتظامیہ کی ناکامی کو بے نقاب کیا بلکہ سماجی اور قانونی چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔ جنسی ہراسانی کے معاملات میں اکثر متاثرین کو خاموش کر دیا جاتا ہے، اور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ سومیا کے کیس میں بھی یہی ہوا۔ اسے نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ اس کی شکایات کو نظر انداز کیا گیا۔
اس واقعے کے بعد اپوزیشن کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہی اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ، مرکزی تعلیمی وزیر دھرمیندر پردھان اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایمس ہسپتال پہنچے، جہاں سومیا زیر علاج تھی۔ لیکن کیا یہ دورہ صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے تھا؟ اگر اپوزیشن نے یہ معاملہ نہ اٹھایا ہوتا، تو کیا کوئی بڑا لیڈر سومیا کی حالت دیکھنے جاتا؟
نظام کی اصلاح کی ضرورت
سومیا شری رشی کیس ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارا نظام کس طرح خواتین کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی کے معاملات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے سخت قوانین اور غیر جانبدار تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، سیاسی جماعتوں کو اس طرح کے حساس معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
سومیا کی موت ایک نظام کی ناکامی ہے۔ اس کے لیے نہ صرف کالج انتظامیہ، بلکہ مقامی پولیس، سیاسی لیڈرز اور حکومتی ادارے سب ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسی المناک کہانیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں، تو ہمیں نظام میں بنیادی اصلاحات لانی ہوں گی۔
