Site icon Urdu India Today

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب: ایک شاندار فتح کی کہانی

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب میں 452 ووٹ حاصل کرکے بھارت کے 15ویں نائب صدر منتخب ہوگئے۔ یہ فتح NDA کی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ تفصیلات، پس منظر اور ردعمل جانیں۔

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب بھارت کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ 10 ستمبر 2025 کو ہونے والے اس انتخاب میں NDA کے امیدوار سی پی رادھاکرشنن نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح نہ صرف BJP کی قیادت میں NDA کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ بھارت کی جمہوری عمل کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کی تفصیلات، امیدواروں کے پس منظر، انتخابی عمل، نتائج اور ردعمل پر روشنی ڈالیں گے۔

مقدمہ

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب 2025 میں ایک اہم موڑ تھا جب سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی صحت کی وجہ سے استعفیٰ کے بعد قبل از وقت انتخابات کا انعقاد ہوا۔ نے مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھاکرشنن کو امیدوار نامزد کیا جبکہ اپوزیشن INDIA بلاک نے سابق سپریم کورٹ جج جسٹس بی سدرشن ریڈی کو میدان میں اتارا۔ یہ انتخاب پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ہوا اور نتائج اسی دن شام کو اعلان کیے گئے۔

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب: ایک شاندار فتح کی کہانی

اس انتخاب میں کل 767 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 752 درست تھے اور 15 غلط۔ سی پی رادھاکرشنن نے 452 ووٹ حاصل کرکے 152 ووٹوں کی برتری سے فتح حاصل کی جبکہ بی سدرشن ریڈی کو 300 ووٹ ملے۔ یہ فتح NDA کی توقعات سے بھی زیادہ تھی کیونکہ کاغذ پر ان کے پاس 427 ایم پیز تھے جن میں YSRCP کے 11 اور چھوٹی پارٹیوں کے کچھ اراکین کی حمایت شامل تھی۔

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کی اس کامیابی نے بھارت کی سیاست میں نئی بحثیں چھیڑ دیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئینی اقدار کو مضبوط کریں گے اور پارلیمانی بحث کو بہتر بنائیں گے۔ صدر دروپدی مرمو، سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیرداخلہ امیٹ شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی انہیں مبارکباد دی۔ دوسری طرف، بی سدرشن ریڈی نے نتیجہ قبول کرتے ہوئے کہا کہ نظریاتی جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ آرٹیکل سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کو مزید گہرائی سے دیکھے گا اور تحقیق کی بنیاد پر تفصیلات فراہم کرے گا۔ ہم وکی پیڈیا جیسے خارجی وسائل سے لنکس بھی شامل کریں گے تاکہ قارئین مزید جان سکیں۔ سی پی رادھاکرشنن کی وکی پیڈیا صفحہ

سی پی رادھاکرشنن کا پس منظر

سی پی رادھاکرشنن، جن کا پورا نام چندر پورم پونوسامی رادھاکرشنن ہے، 4 مئی 1957 کو تمل ناڈو کے تروپور میں پیدا ہوئے۔ وہ RSS کے پرانے کارکن ہیں اور BJP میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور کاروبار میں بھی سرگرم رہے۔ سیاسی کیریئر کا آغاز RSS سے ہوا جہاں وہ مختلف سطحوں پر کام کرتے رہے۔
وہ دو بار کوئمبٹور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور کوئر بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ 2024 میں انہیں مہاراشٹر کا گورنر مقرر کیا گیا۔ سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب میں ان کی فتح کو RSS اور BJP کی جڑیں مضبوط ہونے کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی ساکھ ایسی ہے کہ وہ سیاسی کھیل نہیں کھیلتے بلکہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کی زندگی میں کھیلوں کا بھی اہم کردار ہے۔ وہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے شوقین ہیں لیکن سیاست میں وہ “کھیل” نہیں کھیلتے۔ ان کی فتح کو قوم پرست نظریہ کی جیت قرار دیا گیا۔

جسٹس بی سدرشن ریڈی کا پس منظر

جسٹس بی سدرشن ریڈی 8 جولائی 1946 کو تلنگانہ کے اکولا میلا رم گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں اور 1971 میں وکالت شروع کی۔ وہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جج بنے اور پھر 2005 میں سپریم کورٹ آف انڈیا پہنچے۔

ان کی مشہور فیصلہ سلبی ملیشیا کو غیر آئینی قرار دینا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سماجی انصاف اور آئینی اقدار پر کام کرتے رہے۔ INDIA بلاک نے انہیں نائب صدر کے لیے نامزد کیا تاکہ آئینی اصولوں کی حفاظت کی جائے۔ سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب میں ان کی شکست کے باوجود انہوں نے جمہوریت پر یقین کا اظہار کیا۔

نائب صدر کا انتخابی عمل

بھارت میں نائب صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کرتا ہے جس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اور نامزد اراکین شامل ہوتے ہیں۔ یہ عمل متناسب نمائندگی کے ذریعے ہوتا ہے۔ 2025 کا انتخاب قبل از وقت تھا کیونکہ جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔
ووٹنگ خفیہ ہوتی ہے اور کامیابی کے لیے آدھے سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس بار ہاف مارک 377 تھا۔ سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب میں یہ عمل پارلیمنٹ میں ہوا۔ انتخابی عمل کی تفصیلات

انتخاب کے نتائج

نتائج کے مطابق سی پی رادھاکرشنن کو 452 ووٹ ملے جبکہ بی سدرشن ریڈی کو 300۔ یہ فتح NDA کی توقعات سے زیادہ تھی اور کراس ووٹنگ کی نشاندہی کرتی ہے۔ کم از کم 13 اپوزیشن ایم پیز نے NDA کو ووٹ دیا۔

کچھ پارٹیاں جیسے BJD نے ووٹنگ سے گریز کیا۔سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کی یہ جیت قوم پرست نظریہ کی فتح ہے۔

سیاسی ردعمل اور تجزیہ

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سی پی رادھاکرشنن پارلیمانی بحث کو بہتر بنائیں گے۔ امیٹ شاہ نے ان کی grassroots سطح کی قیادت کی تعریف کی۔ راج ناتھ سنگھ نے ان کی دیانتداری کو سراہا۔
بی سدرشن ریڈی نے نتیجہ قبول کیا اور جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔ یہ فتح NDA کی 2025 میں سیاسی طاقت کو ظاہر کرتی ہے جہاں BJP کی قیادت میں اتحاد مضبوط ہے۔

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کی اہمیت

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب بھارت کی جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فتح 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو سپورٹ کرتی ہے۔ یہ انتخاب INDIA بلاک کی کمزوری بھی ظاہر کرتا ہے۔
اس کی اہمیت آئینی اداروں کی حفاظت میں ہے۔ سی پی رادھاکرشنن کی تجربہ کار قیادت سے توقع ہے کہ راجیہ سبھا کی چیئرمین شپ بہتر ہوگی۔

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر انتخاب کی یہ کہانی ایک نئی شروعات ہے۔ ان کی فتح سے NDA کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ قارئین، مزید جاننے کے لیے کمنٹس میں پوچھیں۔ یہ آرٹیکل تقریباً 2000 الفاظ پر مشتمل ہے اور تحقیق کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

Exit mobile version