نریندر مودی کی آزادی تقریر 2025 نے ملک بھر میں بحث کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے اپنی اب تک کی سب سے طویل تقریر میں کئی جارحانہ اور متنازع بیانات دیے، جنہوں نے اپوزیشن کو سیخ پا کر دیا۔ انڈس واٹر ٹریٹی پر تنقید، آر ایس ایس کی تعریف، اور پاکستان کو کھری کھری سناتے ہوئے مودی نے سیاسی میدان گرم کر دیا۔ یہ تقریر نہ صرف اپنی طوالت کے لیے تاریخی ہے بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی گہرے ہیں
مودی کی آزادی تقریر 2025 کا پس منظر
نریندر مودی کی آزادی تقریر 2025 ملک کی 79ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے دی گئی۔ یہ تقریر تقریباً 104 منٹ طویل تھی، جو اب تک کی سب سے لمبی تقریر ہے۔ پچھلے ریکارڈ 98 منٹ کے تھے، جو خود مودی نے قائم کیے تھے۔ تقریر میں خود انحصاری، جدت اور شہریوں کی طاقت پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے آزادی کے مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کیا اور ‘ویکست بھارت’ کی طرف اشارہ کیا۔
یہ تقریر ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ملک میں سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد اپوزیشن نے مودی حکومت پر کئی الزامات لگائے ہیں، جن میں انتخابی کمیشن کی جانبداری اور سانحہ پہلگام جیسے واقعات شامل ہیں۔ تقریر کو انتخابی تقریر سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جہاں ہندو مسلم اور کانگریس پر تنقید کی گئی۔
تقریر کے اہم نکات
نریندر مودی کی آزادی تقریر 2025 میں کئی کلیدی نکات تھے۔ سب سے پہلے، انہوں نے کہا کہ “خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”، جو پہلگام حملوں کا حوالہ تھا۔ انڈس واٹر ٹریٹی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے، مودی نے کہا کہ بھارت کے پانی پر صرف بھارت کا حق ہے۔ یہ بیان پاکستان کے لیے سخت انتباہ تھا۔
دوسرا، آر ایس ایس کی 100 سالہ خدمات کی تعریف کی گئی۔ مودی نے اسے دنیا کا سب سے بڑا این جی او قرار دیا اور قومی تعمیر میں اس کے کردار کو سراہا۔ یہ پہلی بار تھا کہ لال قلعہ سے آر ایس ایس کا براہ راست ذکر کیا گیا۔
تیسرا، ڈیموگرافی کی تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مودی نے کہا کہ غریبوں کی بیٹیوں اور زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
چوتھا، میڈ ان انڈیا سیمی کنڈکٹر چپس کا اعلان کیا گیا، جو 2025 کے آخر تک لانچ ہوں گی۔ اس کے علاوہ، جی ایس ٹی میں اصلاحات اور موٹاپے جیسے صحت کے مسائل پر بات کی گئی۔
اپوزیشن کی تنقید
اپوزیشن نے مودی کی آزادی تقریر 2025 کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے جے رام رمیش نے اسے “باسی اور منافقانہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریر میں وہی پرانے نعرے دہرائے گئے، جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ سیمی کنڈکٹر کا وعدہ جھوٹ قرار دیا گیا، کیونکہ چنڈی گڑھ میں 1980 کی دہائی میں پہلا پلانٹ قائم ہو چکا تھا۔
ادھو سینا کے آدتیہ ٹھاکرے نے بی سی سی آئی پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خون اور پانی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تو خون اور کرکٹ کیسے؟ ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ میچز پر سوال اٹھایا گیا، جہاں جے شاہ کی قیادت والی بی سی سی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان اور انڈس واٹر ٹریٹی پر بیان
مودی کی آزادی تقریر 2025 میں پاکستان کو سخت انتباہ دیا گیا۔ پہلگام حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انڈس واٹر ٹریٹی کو منسوخ کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ مودی نے کہا کہ بھارت کے کسان پانی کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ دشمن ممالک کے کھیت سیراب ہو رہے ہیں۔ یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی 1960 میں ہوئی تھی اور اسے کئی بار نظرثانی کی تجاویز دی گئی ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد، بھارت نے ٹریٹی پر دوبارہ غور کرنے کا اعلان کیا ہے
آر ایس ایس کی تعریف اور تنازع
مودی کی آزادی تقریر 2025 کا سب سے متنازع حصہ آر ایس ایس کی تعریف تھی۔ مودی نے اسے قومی خدمت کا نمونہ قرار دیا۔ تاہم، اپوزیشن نے اسے آزادی کی جدوجہد کا توہین قرار دیا۔ کانگریس نے کہا کہ آر ایس ایس نے آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا اور سردار پٹیل نے اسے بین کیا تھا۔ ناتھو رام گوڈسے کا حوالہ دیتے ہوئے، گاندھی کی ہتيا کا ذکر کیا گیا۔
ایکس (ٹوئٹر) پر ردعمل تیز تھے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ “آر ایس ایس برطانوی ریکارڈز میں غیر خطرناک تھی”۔
کھیل اور دہشت گردی کا معاملہ
تقریر میں خون اور پانی کے بیان کے بعد، سوال اٹھا کہ کیا خون اور کرکٹ ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ میچز پر تنقید کی گئی۔ پہلگام شہید کی بیٹی ایشنیا نے کہا کہ میچز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ بی سی سی آئی کی پالیسی پر سوال اٹھائے گئے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کپ 2025 میں بھارت اور پاکستان کے میچز شیڈول ہیں، جو سیاسی تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ڈیموگرافی اور غریبوں پر حملہ
مودی نے ڈیموگرافی کی تبدیلی کو سازش قرار دیا۔ غریبوں کی بیٹیوں اور زمینوں پر قبضے کا ذکر کیا گیا۔ یہ بیان بنگال اور جھارکھنڈ انتخابات سے جوڑا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے پوچھا کہ 11 سالوں میں حکومت نے کیا کیا؟
کانگریس کا ردعمل
کانگریس نے تقریر کو تھکا ہوا قرار دیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی کو ریٹائر ہو جانا چاہیے۔ ایم ایس پی اور روزگار پر کوئی ٹھوس اعلان نہیں۔ انتخابی کمیشن کی جانبداری کا الزام لگایا گیا۔
تحقیق اور مزید حقائق
مزید تحقیق کے لیے، ہم نے ویب سرچ اور ایکس پوسٹس کا جائزہ لیا۔ تقریر کی لمبائی 104 منٹ تھی، جو اندرا گاندھی کے ریکارڈ سے آگے ہے۔
آر ایس ایس پر تنقید کی پوسٹس میں سردار پٹیل کا بین کا ذکر عام تھا۔
مودی کی آزادی تقریر 2025 ایک طرف تاریخی تھی تو دوسری طرف متنازع۔ یہ تقریر سیاسی بحثوں کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ کیا یہ انتخابی حکمت عملی تھی یا قومی ویژن؟ آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹس میں بتائیں۔
