پنجاب کی سیلابی تباہی کی صورتحال: مرکز و صوبائی حکومتوں کی بے حسی اور عوام کی پکار

پنجاب کی سیلابی تباہی سے متاثرہ دیہات

 پنجاب کی سیلابی تباہی نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے، لیکن مرکز اور صوبائی حکومتیں تعاون میں ناکام ہیں۔ رہنماؤں کی اپیلوں کے باوجود امدادی کاموں میں سستی کیوں؟ تازہ ترین صورتحال، تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ جانیں۔

پنجاب کی سیلابی تباہی: ایک خوفناک حقیقت

پنجاب، جو ہندوستان کا دل اور اناج کا گودام کہلاتا ہے، اس وقت تاریخ کی بدترین سیلابی تباہی سے دوچار ہے۔ دریاؤں ستلج، ب्यास اور راوی میں غیر معمولی طغیانی نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمینوں، دیہاتوں اور شہروں کو پانی میں ڈبو دیا ہے۔ دیہات کے دیہات، دکانیں اور یہاں تک کہ گھریلو سامان جیسے فریزر تک سیلابی پانی کے رحم و کرم پر ہیں۔ ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پنجاب کے ایک گاؤں میں فریزر پانی میں بہتا ہوا نظر آیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں کس قدر تباہ ہو چکی ہیں۔

اس تباہی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق، اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 30 سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ پاکپتن، قصور، سیالکوٹ اور ظفروال جیسے علاقوں میں سیلابی پانی نے حفاظتی بند توڑ دیے، جس سے متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

پنجاب کی سیلابی تباہی سے متاثرہ دیہات
پنجاب کی سیلابی تباہی سے متاثرہ دیہات

مرکز و صوبائی حکومتوں کا عدم تعاون

پنجاب کی اس تباہی کے دوران مرکز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ جہاں صوبائی حکومت نے فوج کو امدادی کاموں کے لیے طلب کیا ہے، وہیں مرکز کی جانب سے خاطر خواہ امداد یا فعال کردار کی کمی کو رہنما شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر خصوصی امدادی پیکج کا اعلان کریں اور متاثرہ ریاستوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “حکومت کی ذمہ داری عوام کی حفاظت ہے، لیکن اس فعال کردار کی مکمل کمی نظر آ رہی ہے۔”

دوسری جانب، سابق وزیر اعلیٰ دہلی اروند کیجریوال نے بھی سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر پنجاب کی مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پنجاب نے ہمیشہ ملک کا پیٹ بھرا، آج ہمیں اس کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا۔” تاہم، سیاسی رہنماؤں کی ان اپیلوں کے باوجود، وزیر اعظم کی خاموشی سوالات اٹھا رہی ہے۔ عوام یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب پنجاب کی عوام پانی میں ڈوب رہی ہے، تو مرکزی قیادت کی توجہ کہاں ہے؟

رہنماؤں کی اپیل اور عوام کی بے بسی

پنجاب کی عوام اس وقت بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ مانگ رہے ہیں، جبکہ ان کے گھر اور املاک پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک چوہا پانی میں پھنسا نظر آیا، جسے پنجابیوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بچایا، جو ان کی دریا دلی کی عکاسی کرتا ہے۔

مشہور کامیڈین کپل شرما نے اپنے بیان میں کہا، “پنجاب کی اس تباہی کو دیکھ کر دل ٹوٹتا ہے۔ ہم ہمیشہ مشکل وقت میں ایک ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، اور ہمیں اس بار بھی مضبوط رہنا ہوگا۔” اسی طرح، بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن نے بھی پنجاب سمیت شمالی ہندوستان کے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم، ان مشہور شخصیات کی اپیلوں کے باوجود، امدادی کاموں کی رفتار سست ہے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ وہ خود ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کر رہی ہیں، لیکن عوام کا کہنا ہے کہ عملی امداد ابھی تک ناکافی ہے۔

شمالی ہندوستان میں سیلاب کی صورتحال

پنجاب کے علاوہ، شمالی ہندوستان کے دیگر علاقوں جیسے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور ہریانہ بھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہیں۔ جموں و کشمیر کے ادھم پور میں ایک پل سیلابی پانی کی نذر ہو گیا، جبکہ اتراکھنڈ کے مکتیشور میں بازار پانی کے ریلوں میں بہہ گئے۔ ہماچل پردیش کے شملہ ضلع کے چابا میں ستلج ندی کا پانی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جس سے سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔ 

ہریانہ کے سرسود گاؤں میں بھی حالات سنگین ہیں، جہاں مسلسل بارشوں نے پورے گاؤں کو ڈوبنے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ گروگرام، جو ہندوستان کا آئی ٹی حب کہلاتا ہے، وہاں بھی سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، جس سے ٹریفک جام اور پروازوں کی منسوخی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تباہی کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند ترقی اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر ناجائز تعمیرات ہیں۔ ندیوں کے راستوں میں بنائے گئے گھر، دکانیں اور کمرشل اداروں نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا، جس سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔

نتیجہ: ایک قومی بحران کا تقاضا

پنجاب کی سیلابی تباہی نہ صرف ایک صوبائی بحران ہے بلکہ یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے۔ مرکز اور صوبائی حکومتوں کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر فوری امدادی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی جانب سے امداد اور ہمدردی کی لہر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہندوستانی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ لیکن اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط حکومتی ردعمل کی ضرورت ہے، جو اب تک نظر نہیں آ رہا۔

ہم سب کو مل کر اس تباہی سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ پنجاب کی مدد کے لیے آگے آئیں، کیونکہ یہ وہی پنجاب ہے جو پورے ملک کا پیٹ بھرتا ہے۔ آج اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *