جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ: صحت کے مسائل کی وجہ سے بڑا فیصلہ

جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ: صحت کے مسائل کی وجہ سے بڑا فیصلہ

جگدیپ دھنکھڑ نے صحت کے مسائل کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر فوری اثر سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ جانیے ان کے سیاسی سفر اور اس فیصلے کے اثرات۔

جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ

بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ایک غیر متوقع فیصلے میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کو لکھے گئے خط میں صحت سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے فوری اثر سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یہ خبر نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوام کے لیے بھی چونکا دینے والی ہے، کیونکہ دھنکھڑ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی کارکردگی کو سراہا جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صحت کی دیکھ بھال اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرنے کے لیے وہ یہ فیصلہ کر رہے ہیں۔

جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ: صحت کے مسائل کی وجہ سے بڑا فیصلہ
جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ: صحت کے مسائل کی وجہ سے بڑا فیصلہ

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ کا مون سون سیشن شروع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر ان کی غیر موجودگی اہم مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اس مضمون میں ہم جگدیپ دھنکھڑ کے سیاسی سفر، ان کے فیصلے کی وجوہات، اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

استعفیٰ کی وجہ: صحت سے متعلق مسائل

جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے استعفیٰ کے خط میں واضح کیا کہ صحت سے متعلق مسائل کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے لکھا، “صحت کی دیکھ بھال کو ترجیح دینے اور طبی مشوروں پر عمل کرنے کے لیے، میں بھارت کے نائب صدر کے عہدے سے فوری اثر سے استعفیٰ دیتا ہوں۔” اگرچہ انہوں نے خط میں صحت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن ذرائع کے مطابق رواں سال مارچ میں انہیں دل سے متعلق مسائل کی وجہ سے نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل کیا گیا تھا۔

جگدیپ دھنکھڑ: استعفی نامہ
جگدیپ دھنکھڑ: استعفی نامہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وقت ہسپتال جا کر ان سے ملاقات کی تھی اور ان کی صحت کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، دھنکھڑ گزشتہ کچھ عرصے سے صحت کے مسائل سے دوچار تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے یہ مشکل فیصلہ لیا۔

سیاسی سفر: ایک نظر میں

جگدیپ دھنکھڑ نے 6 اگست 2022 کو بھارت کے 14ویں نائب صدر کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ اس سے قبل وہ مغربی بنگال کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں انہوں نے کئی اہم عہدوں پر کام کیا۔

یہ 1989-1991: دھنکھڑ نے راجستھان کے جھنجھنو لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
مرکزی وزیر: وہ وی پی سنگھ اور چندر شیکھر کی حکومتوں میں مرکزی وزیر رہے۔
مغربی بنگال کے گورنر: 2019 سے 2022 تک انہوں نے مغربی بنگال کے گورنر کے طور پر کام کیا، جہاں ان کی کارکردگی کو کافی سراہا گیا لیکن کچھ تنازعات بھی سامنے آئے۔

نائب صدر کے طور پر انہوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں راجیہ سبھا نے کئی اہم قانون سازیوں پر بحث کی اور انہیں منظور کیا۔

جگدیپ دھنکھڑ کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر

جگدیپ دھنکھڑ 18 مئی 1951 کو راجستھان کے جھنجھنو ضلع میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک اسکول میں ہوئی، جس کے بعد وہ چتور گڑھ کے سینک اسکول میں داخل ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا انتخاب نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) کے لیے ہوا تھا، لیکن انہوں نے فوج میں شامل ہونے کے بجائے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے راجستھان یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی اور بعد میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔ جے پور میں رہتے ہوئے انہوں نے طویل عرصے تک وکالت کی اور ایک کامیاب وکیل کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ ان کا پیشہ ورانہ پس منظر ان کی سیاسی زندگی میں بھی کام آیا، جہاں انہوں نے اپنی قانونی مہارت کو اہم فیصلوں میں استعمال کیا۔

صحت سے متعلق حالیہ مسائل

رواں سال مارچ میں جگدیپ دھنکھڑ کو دل سے متعلق مسائل کی وجہ سے ایمس میں داخل کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس وقت ان کی حالت مستحکم بتائی گئی تھی، لیکن ذرائع کے مطابق وہ مسلسل صحت کے مسائل سے دوچار تھے۔ ان کے استعفیٰ کے اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی صحت اب انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

صحت کے مسائل کی وجہ سے استعفیٰ دینے والے نائب صدر کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے، لیکن دھنکھڑ کا فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ان کا عہدہ چھوڑنے کا وقت پارلیمنٹ کے اہم مون سون سیشن کے آغاز سے ٹکرا رہا ہے۔

پارلیمنٹ کے مون سون سیشن پر اثرات

جگدیپ دھنکھڑ کا استعفیٰ اس وقت آیا ہے جب پارلیمنٹ کا مون سون سیشن 22 جولائی 2025 سے شروع ہو چکا ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر ان کی غیر موجودگی سے ایوان کی کارروائی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں کئی اہم بلز اور ایشوز پر بحث ہونی ہے، اور چیئرمین کی غیر موجودگی سے کارروائی کو منظم کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حکومت اب جلد از جلد نئے نائب صدر کے انتخاب پر غور کرے گی۔ اس دوران راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین یا دیگر سینئر اراکین کو عارضی طور پر چیئرمین کی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔

مستقبل کے امکانات اور عوامی ردعمل

جگدیپ دھنکھڑ کے استعفیٰ نے سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ان کے فیصلے کو ذاتی صحت کی ترجیح کے طور پر سراہا، جبکہ کچھ نے اسے سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ تاہم، ان کے استعفیٰ کے خط میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو سیاسی دباؤ کی طرف اشارہ کرتی ہو۔

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ نئے نائب صدر کا انتخاب جلد کیا جائے گا تاکہ راجیہ سبھا کی کارروائی متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، دھنکھڑ کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کیا وہ صحت یابی کے بعد دوبارہ کسی عہدے پر واپسی کریں گے؟ یہ سوال فی الحال زیر بحث ہے۔

Read More 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *