WI vs PAK Highlights 2025: ویسٹ انڈیز نے مشکل پچ پر پاکستان کو دوسرے ٹی20 میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ جیسون ہولڈر اور گڈاکیش موتی کی شاندار کارکردگی نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ پڑھیں مکمل تفصیلات!
ویسٹ انڈیز کی جیت: مشکل پچ پر پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست
لاؤڈرہل، فلوریڈا میں کھیلے گئے دوسرے ٹی20 میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 1-1 کی برابری کر لی۔ ویسٹ انڈیز کی جیت کے ہیرو جیسون ہولڈر اور گڈاکیش موتی رہے، جنہوں نے نہ صرف گیند بازی بلکہ بیٹنگ میں بھی کمال دکھایا۔ اس میچ میں پاکستانی پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کی ناقص کارکردگی نے ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا۔
میچ کا خلاصہ
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 133 رنز بنائے۔ یہ ایک مشکل پچ تھی، جہاں رنز بنانا آسان نہ تھا۔ ویسٹ انڈیز نے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ابتدائی مشکلات کے باوجود 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 135 رنز بنا کر میچ جیت لیا۔ ویسٹ انڈیز کی جیت میں جیسون ہولڈر کے 16 رنز اور گڈاکیش موتی کی 28 رنز کی اننگز نے اہم کردار ادا کیا۔
ویسٹ انڈیز کی جیت کا سفر
ویسٹ انڈیز کی جیت اس میچ میں ایک سنسنی خیز لمحات سے بھرپور رہی۔ ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی شروعات انتہائی خراب رہی۔ صرف 7 رنز پر پہلا وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی بولرز نے دباؤ بڑھایا اور ویسٹ انڈیز کا اسکور 70 رنز پر 5 وکٹ ہو گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لگ رہا تھا کہ پاکستان میچ پر مکمل گرفت بنا لے گا۔

تاہم، گڈاکیش موتی نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 28 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جو ویسٹ انڈیز کی پاری کا سب سے بڑا اسکور ثابت ہوا۔ آخری لمحات میں جیسون ہولڈر نے 10 گیندوں پر 16 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
پاکستانی بیٹنگ کی ناکامی
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ اس میچ میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی۔ اوپنرز نے محتاط آغاز کیا، لیکن ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں، بالخصوص جیسون ہولڈر نے انہیں رن بنانے کے مواقع فراہم نہیں کیے۔ پاکستان کے مڈل آرڈر نے بھی کوئی خاص مزاحمت نہ کی، اور ٹیم 133 رنز پر محدود ہو گئی۔ بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے تجربہ کار کھلاڑی اس پچ پر اپنا جادو نہ دکھا سکے۔
ویسٹ انڈیز کی شاندار گیند بازی
ویسٹ انڈیز کی جیت میں ان کی گیند بازی کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ جیسون ہولڈر نے 4 اوورز میں صرف 19 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ گڈاکیش موتی نے بھی 4 اوورز میں 39 رنز کے عوض 2 وکٹیں لیں۔ ان دونوں نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو دباؤ میں رکھا اور بڑے رنز بنانے سے روک دیا۔
پاکستانی بولرز کی کارکردگی
پاکستان کے لیے محمد نواز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ صائم ایوب نے 2 وکٹیں لیں۔ تاہم، ٹیم کے اہم پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی مہنگے ثابت ہوئے۔ شاہین نے 4 اوورز میں 31 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ حسن علی نے 4 اوورز میں 48 رنز دیے اور کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ ان کی ناقص کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو میچ میں واپسی کا موقع فراہم کیا۔
میچ کے ہیروز: جیسون ہولڈر اور گڈاکیش موتی
ویسٹ انڈیز کی جیت کے پیچھے جیسون ہولڈر اور گڈاکیش موتی کی آل راؤنڈ کارکردگی تھی۔ ہولڈر نے نہ صرف گیند سے کمال دکھایا بلکہ آخری لمحات میں بیٹ سے بھی میچ کو ختم کیا۔ موتی نے بیٹنگ میں ٹیم کو سنبھالا اور گیند بازی میں اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان دونوں کی پرفارمنس نے ثابت کیا کہ مشکل حالات میں تجربہ اور ہمت کتنی اہم ہوتی ہے۔
سیریز کا مستقبل
اس جیت کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے سیریز کو 1-1 سے برابر کر دیا ہے۔ اب دونوں ٹیمیں تیسرے اور فیصلہ کن میچ کی تیاری کر رہی ہیں۔ پاکستان کو اپنی بیٹنگ اور گیند بازی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر شاہین اور حسن جیسے اہم کھلاڑیوں کو اپنی فارم بحال کرنی ہوگی۔ دوسری طرف، ویسٹ انڈیز اس جیت سے پر اعتماد ہے اور سیریز جیتنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔
ویسٹ انڈیز کی جیت نے ثابت کیا کہ مشکل حالات میں ٹیم ورک اور چند کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ جیسون ہولڈر اور گڈاکیش موتی نے اس میچ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جبکہ پاکستانی ٹیم کو اپنی خامیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تیسرے میچ میں دونوں ٹیمیں اپنی پوری طاقت سے میدان میں اتریں گی، اور شائقین کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔