Aus vs Sa 3rd T20 highlights 2025: میکسویل کا دھماکہ اور مارش کا کمال! آسٹریلیا نے دکسن افریقہ کو تیسرے T20 میچ میں شکست دے کر سیریز 2-1 سے جیت لی۔ پڑھیں مکمل تفصیلات اور میکسویل کی طوفانی اننگز کی کہانی.
آسٹریلیا کی شاندار فتح
آسٹریلیا نے دکسن افریقہ کے خلاف تیسرے T20 میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو وکٹوں سے فتح حاصل کر کے تین میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔ میکسویل کا دھماکہ اس میچ کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوا، جب انہوں نے ناقابلِ تسخیر 62 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ دکسن افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز بنائے، لیکن آسٹریلیا نے آخری گیند سے پہلے 173 رنز بنا کر میچ اور سیریز جیت لی۔

یہ میچ نہ صرف سنسنی خیز تھا بلکہ کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک مکمل تفریحی پیکج ثابت ہوا، جہاں گلیں میکسویل کی طوفانی بیٹنگ، مچل مارش کی جارحانہ کپتانی، اور دکسن افریقہ کے ڈیولڈ بریوس کی دھماکہ خیز اننگز نے سب کی توجہ حاصل کی۔
میکسویل کا دھماکہ: ناقابلِ تسخیر اننگز
میکسویل کا دھماکہ اس میچ کا سب سے یادگار لمحہ تھا۔ جب آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن اپ مشکل میں تھی اور 120 رنز پر پانچ وکٹیں گر چکی تھیں، تب گلیں میکسویل نے ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے 36 گیندوں پر 8 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 62 رنز بنائے۔ ان کی اس طوفانی اننگز نے دکسن افریقہ کے گیند بازوں کو بوکھلا کر رکھ دیا۔
خاص طور پر میکسویل کی جارحانہ بیٹنگ اور بغیر دباؤ کے کھیلنے کی صلاحیت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ انہوں نے ساتویں وکٹ کے لیے بین ڈوارشوس کے ساتھ 41 رنز کی اہم شراکت قائم کی، جو فتح کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ ڈوارشوس نے بھلے ہی صرف ایک رن بنایا، لیکن دوسرے سرے پر ٹھہر کر میکسویل کا بھرپور ساتھ دیا۔
دلچسپ حقیقت: گلیں میکسویل T20 کرکٹ میں اپنی غیر متوقع اور دھماکہ خیز بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل بھی کئی میچوں میں آسٹریلیا کو ناممکن حالات سے نکالا ہے۔
مچل مارش اور ٹریوس ہیڈ: مضبوط آغاز
آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز کپتان مچل مارش اور ٹریوس ہیڈ نے شاندار انداز میں کیا۔ دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے 66 رنز کی شراکت قائم کی، جس نے ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ٹریوس ہیڈ 19 رنز بنا کر ایڈن مارکرم کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ مارش نے 37 گیندوں پر 3 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 54 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔
مارش کی یہ اننگز نہ صرف جارحانہ تھی بلکہ انہوں نے مشکل حالات میں ٹیم کی قیادت بھی بہترین انداز میں کی۔ تاہم، ان کے آؤٹ ہونے کے بعد آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن اپ لڑکھڑاتی دکھائی دی، جب جوش انگلس (0) اور کیمرون گرین (9) سستے میں پویلین لوٹ گئے۔
دکچھن افریقہ کی بیٹنگ: بریوس کی طوفانی اننگز
دکچھن افریقہ کی بیٹنگ کی بات کریں تو انہوں نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کی اور ابتدائی جھٹکوں کے باوجود 172 رنز کا قابلِ دفاع سکور بنایا۔ ڈیولڈ بریوس نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور صرف 22 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 26 گیندوں پر 1 چوکے اور 6 چھکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے، جو اننگز کا سب سے بڑا اسکور تھا۔
ون ڈیر ڈوسن نے بھی 26 گیندوں پر ناقابلِ شکست 38 رنز بنائے، جس کی بدولت دکسن افریقہ 170 کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم، ان کی ٹیم ابتدائی طور پر 49 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکی تھی، جس سے ان کی مشکلات بڑھ گئی تھیں۔
آسٹریلیا کی گیند بازی: ایلس اور زیمپا کا کمال
آسٹریلیا کی گیند بازی میں ناتھن ایلس نے سب سے زیادہ متاثر کیا، جنہوں نے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ایڈم زیمپا اور جوش ہیزل ووڈ نے بھی دو دو وکٹیں لیں، جس سے دکسن افریقہ کی بیٹنگ کو بڑے سکور تک محدود رکھنے میں مدد ملی۔ زیمپا کی اسپن گیند بازی نے خاص طور پر دکسن افریقی بلے بازوں کو پریشان کیا، جبکہ ہیزل ووڈ نے اپنی درست لائن اور لینتھ سے رنز کی رفتار کو کنٹرول کیا۔
میچ کا ٹرننگ پوائنٹ
میچ کا سب سے اہم لمحہ میکسویل کا دھماکہ تھا، جب انہوں نے دکچھن افریقہ کے گیند بازوں کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا۔ دکچھن افریقہ کے گیند بازوں نے ایک وقت پر آسٹریلیا کو 120 رنز پر پانچ وکٹوں تک محدود کر دیا تھا، لیکن میکسویل نے اپنی طوفانی بیٹنگ سے میچ کا رخ موڑ دیا۔ کوربین بوش نے تین وکٹیں لیں، جبکہ کگیسو ربادا اور کوینا مفاکا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن وہ میکسویل کو روکنے میں ناکام رہے۔
آسٹریلیا کی فتح کی کہانی
میکسویل کا دھماکہ اور مچل مارش کی شاندار کپتانی نے آسٹریلیا کو اس سیریز میں فتح دلائی۔ یہ جیت آسٹریلیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ دکسن افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف انہوں نے مشکل حالات میں واپسی کی۔ میکسویل کی یہ اننگز T20 کرکٹ میں ان کے مقام کو مزید مضبوط کرتی ہے، جبکہ دکسن افریقہ کو اپنی بیٹنگ اور گیند بازی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
اس میچ نے کرکٹ شائقین کو ایک سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کا موقع دیا، اور میکسویل کی طوفانی بیٹنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مشکل حالات میں ٹیم کے لیے ہیرو ثابت ہو سکتے ہیں۔