پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی تباہی: 43 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر – فوری اپڈیٹس 2025

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی تباہی: 43 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر – فوری اپڈیٹس 2025

پنجاب اور دہلی میں سیلاب  کی تباہی نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3.5 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں۔ مرکزی حکومت کی امداد، ریسکیو آپریشنز اور موسمیاتی پیشگوئی کی تازہ ترین معلومات یہاں دستیاب ہیں۔ پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی صورتحال پر مکمل رپورٹ۔

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ مسلسل بارشوں اور دریاؤں کے بڑھتے ہوئے پانی کی وجہ سے لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ پنجاب میں 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دہلی میں یمونا دریا خطرے کی حد عبور کر چکا ہے۔ یہ سیلاب نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ فصلوں، انفراسٹرکچر اور روزمرہ کی زندگی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم مزید تحقیق کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں گے اور تازہ ترین معلومات فراہم کریں گے۔

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی شدت اس قدر ہے کہ مرکزی حکومت نے امدادی ٹیمیں بھیجی ہیں۔ آئی ایم ڈی کی پیشگوئی کے مطابق، ستمبر میں بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی، جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔

پنجاب میں سیلاب کی صورتحال

پنجاب اور دہلی میں سیلاب نے پنجاب کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے تمام 23 اضلاع کو سیلاب زدہ قرار دے دیا ہے۔ اب تک 43 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3.84 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہیں۔ گرداسپور میں 1.45 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، جو سب سے زیادہ ہے۔ امرتسر میں 1.35 لاکھ اور فیروزپور میں 39 ہزار افراد سیلاب کی زد میں ہیں۔

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی تباہی: 43 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر – فوری اپڈیٹس 2025
پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی تباہی: 43 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر – فوری اپڈیٹس 2025

سیلاب کی وجہ سے 1.75 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین ڈوب گئی ہے، جس سے فصلوں کو 1500 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی وجہ سے سکول اور کالج 7 ستمبر تک بند کر دیے گئے ہیں۔ دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بڑھتے ہوئے پانی نے 100 سے زائد دیہات کو ڈبو دیا ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ سیلاب گزشتہ 40 سالوں کا بدترین ہے۔ مرکزی حکومت کی انٹر منسٹریل سینٹرل ٹیمز نے نقصان کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور امدادی کاموں میں تعاون کریں۔

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، امدادی کاموں میں آرمی اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں شامل ہیں۔ لوگ اپنے مویشیوں اور گھروں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پانی کی شدت سے کئی گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

دہلی میں یمونا کا بڑھتا ہوا پانی

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی لہر اب دہلی تک پہنچ چکی ہے۔ یمونا دریا کا پانی خطرے کی حد 207 میٹر سے عبور کر کے 207.48 میٹر تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ 60 سالوں کا تیسرا سب سے بلند سطح ہے۔ اس کی وجہ سے کئی علاقے جیسے کشمیری گیٹ، آئی ایس بی ٹی اور سیکرٹریٹ ڈوب گئے ہیں۔

دہلی میں سیلاب کی وجہ سے 12 ہزار سے زائد لوگوں کو نکالا گیا ہے۔ بیلا روڈ، سول لائنز اور لوہے کا پل شدید متاثر ہیں۔ دہلی کی چیف منسٹر نے ہریانہ حکومت سے ہتھنی کنڈ بیراج سے پانی کی ریلیز کو کنٹرول کرنے کی اپیل کی ہے۔

پنجاب اور دہلی میں سیلاب نے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ علی پور فلائی اوور میں بارش سے ایک بڑا گڑھا پڑ گیا ہے، جو دہلی کی سڑکوں کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ لوگ اپنے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو پانی میں ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔

دہلی میں سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے، حکومت نے ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، لیکن کئی کیمپ خود سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔ موسمیاتی محکمہ نے دہلی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

دیگر ریاستوں میں حالات

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی طرح ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور ہریانہ بھی شدید متاثر ہیں۔ ہماچل میں 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 666 سڑکیں بند ہیں۔ آئی ایم ڈی نے ہماچل کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔

اتراکھنڈ میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس سے پتوراگڑھ میں ایک پاور پروجیکٹ کے 11 لوگ پھنس گئے۔ چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ہریانہ میں یمونا کے بڑھتے پانی سے فریڈ آباد الرٹ پر ہے۔

جموں و کشمیر میں بھی سیلاب کی صورتحال سنگین ہے۔ جہلم اور چناب دریا خطرے کی حد عبور کر چکے ہیں۔ دو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ قومی شاہراہ بند ہے۔

یہ سیلاب شمالی ہندوستان کی متعدد ریاستوں کو متاثر کر رہا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید بارشوں کا نتیجہ ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی کاوشیں

پنجاب اور دہلی میں سیلاب پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت نے انٹر منسٹریل سینٹرل ٹیمیں بھیجی ہیں۔ ہوم منسٹری نے ہماچل، اتراکھنڈ، پنجاب اور جموں و کشمیر کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔

پنجاب حکومت نے 71 کروڑ روپے کی امداد جاری کی ہے۔ چیف منسٹر بھگونت مان نے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے کی اپیل کی ہے۔ دہلی حکومت نے ہریانہ سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

آرمی اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں ریسکیو آپریشنز کر رہی ہیں۔ تلنگانہ نے 16,732 کروڑ روپے کی امداد کی درخواست کی ہے، جو سیلاب کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

حکومتیں سکول بند کر کے بچوں کی حفاظت کر رہی ہیں اور ریلیف کیمپ قائم کر رہی ہیں۔

امدادی کام اور رضاکار

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لیے رضاکار اور این جی اوز سرگرم ہیں۔ ورلڈ سینٹرل کچن اور دیگر تنظیمیں کھانا فراہم کر رہی ہیں۔

پنجاب میں سیلاب کی تباہی دیکھتے ہوئے، لوگ اپنے مویشیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی ویڈیوز میں لوگ کشتیوں اور ٹریکٹروں سے سامان بچا رہے ہیں۔

دہلی میں دکھائیں کیے گئے ڈرون فوٹیج سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ رضاکار پانی میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کا اثر

پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، ستمبر میں بارشیں 109 فیصد سے زیادہ ہوں گی۔

ہمالیا میں شدید بارشوں سے دریاؤں کا پانی بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کان کنی اور جنگلات کی کٹائی سے سیلاب کی شدت بڑھ رہی ہے۔

پنجاب میں 1988 کے بعد یہ بدترین سیلاب ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت کو ماحولیاتی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔

خارجی وسائل: ریٹرز کی رپورٹ پر مزید پڑھیں

پنجاب اور دہلی میں سیلاب ایک قومی بحران ہے۔ 43 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثرین اس کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ امدادی کام جاری رکھیں اور احتیاط برتیں۔ پنجاب اور دہلی میں سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھیں اور مدد کریں۔

Read More 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *