مودی ٹرمپ تعلقات: ترمپ کی تازہ تنقید اور بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا انکشاف

مودی ٹرمپ تعلقات: ترمپ کی تازہ تنقید اور بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا انکشاف

مودی ٹرمپ تعلقات ایک ایسا موضوع ہے جو بھارتی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کے بیانات نے ایک بار پھر اس رشتے کو تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ ترمپ نے بھارت کو “مردہ معیشت” کہا، بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور یہاں تک کہا کہ امریکہ بھارت اور روس کو چین کے ہاتھوں کھو رہا ہے۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ترمپ کی تعریف پر فوری ردعمل دیا، مگر تنقید پر خاموشی اختیار کی۔ یہ صورتحال بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو عیاں کرتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم مودی ٹرمپ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیں گے، ترمپ کے بیانات کی حقیقت جانچیں گے، اور دیکھیں گے کہ کیا بھارتی خارجہ پالیسی واقعی مری ہوئی ہے؟

مودی ٹرمپ تعلقات کی تاریخ

مودی ٹرمپ تعلقات کی بنیاد 2016 میں پڑی جب دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی۔ ترمپ نے مودی کو “عظیم رہنما” کہا، جبکہ مودی نے ترمپ کو “دوست” قرار دیا۔ 2020 میں ترمپ کا احمد آباد دورہ اور “نمستے ترمپ” ایونٹ اس رشتے کی علامت بنا۔ مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ ترمپ نے بھارت کو ٹیرف کنگ کہا اور بھارتی معیشت کو “ڈیڈ اکانومی” قرار دیا۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ترمپ کے یہ بیانات بھارتی حکومت کے لیے ایک جھٹکا ہیں، جو پہلے ترمپ کو اپنا اتحادی سمجھتی تھی۔

مودی ٹرمپ تعلقات: ترمپ کی تازہ تنقید اور بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا انکشاف
مودی ٹرمپ تعلقات: ترمپ کی تازہ تنقید اور بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا انکشاف

یہ رشتہ اب تناؤ کا شکار ہے۔ ترمپ نے 40 سے زائد بار دعویٰ کیا کہ ان کے کہنے پر بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ روکی، مگر مودی نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔ اس سے مودی ٹرمپ تعلقات کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

ترمپ کے حالیہ بیانات اور ان کی حقیقت

ترمپ نے 5 ستمبر 2025 کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا: “لگتا ہے ہم نے بھارت اور روس کو چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔” رائٹرز کے مطابق، یہ بیان شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) سمٹ کے بعد آیا جہاں مودی، پوتن اور شی جن پنگ ایک ساتھ نظر آئے۔ ترمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری پر امریکہ کو مایوس کر رہا ہے، اور اس پر 50 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔

امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے بلومبرگ کو انٹرویو میں کہا: “بھارت ایک یا دو ماہ میں معافی مانگے گا اور ٹرمپ سے ڈیل کرے گا۔” انڈیا ٹوڈے کے مطابق، لٹنک نے بھارت کو برکس میں “روس اور چین کے درمیان کا حرف علت” قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر بھارت امریکہ کی حمایت نہ کرے تو 50 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بیانات حقیقت پر مبنی ہیں؟ بلومبرگ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت نے روسی تیل کی درآمدات 2 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دی ہیں، جو امریکہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ مگر بھارت کا موقف ہے کہ یہ اس کی توانائی کی ضروریات کے لیے ہے۔ ہندوستان ٹائمز میں Shah نے کہا کہ وہ مودی سے مایوس ہیں مگر اب بھی دوست ہیں۔

بھارتی ردعمل: تعریف پر فوری، تنقید پر خاموشی

مودی نے ترمپ کی تنقید پر خاموشی اختیار کی مگر جب ترمپ نے کہا “میں ہمیشہ مودی کا دوست رہوں گا” تو فوری ردعمل دیا۔ ہندو کی رپورٹ کے مطابق، مودی نے کہا: “ترمپ کی مثبت رائے کا شکریہ، بھارت اور امریکہ کا رشتہ خصوصی ہے۔” یہ ANI کی خبر پر ردعمل تھا، نہ کہ ترمپ کے براہ راست بیان پر۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں۔ انڈین ایکسپریس میں جے شنکر کا بیان ہے کہ مودی اور ترمپ کا ذاتی رشتہ اچھا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا: “یہ نیا بھارت ہے، ہماری خارجہ پالیسی خودمختار ہے۔” مگر تنقید پر خاموشی کیوں؟ نیوز ویک بتاتی ہے کہ ترمپ کے یہ بیانات بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی: ماہرین کا تجزیہ

کیا مودی ٹرمپ تعلقات سے بھارتی خارجہ پالیسی مری ہوئی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاں۔ گارڈین کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی کو ترمپ سے جھٹکا لگا ہے۔ سابق سفیر رنجیت رائے نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت کا ترمپ پر اندازہ غلط تھا۔ بی بی سی کا آرٹیکل بتاتا ہے کہ ترمپ کے ٹیرف سے بھارت کو نقصان ہوگا۔

پروفесر اے کے پاشا نے کہا کہ ترمپ کی مسلم مخالف باتوں کی وجہ سے بھارت کا ایک طبقہ انہیں پسند کرتا ہے، مگر یہ غلطی ہے۔ این ڈی ٹی وی میں لٹنک کے بیان پر بھارتی حکومت کی خاموشی کی تنقید کی گئی۔ یہ خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے کیونکہ بھارت امریکہ، روس اور چین کے درمیان توازن نہیں رکھ سکا۔

معاشی اثرات: ٹیرف اور روسی تیل کی خریداری

ترمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگایا، جس میں 25 فیصد روسی تیل کی خریداری پر ہے۔ سی این بی سی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ بھارت امریکہ تجارت کو “یک طرفہ ڈیزاسٹر” قرار دیتا ہے۔ بھارت کی برآمدات کو نقصان پہنچے گا۔

لٹنک نے کہا کہ بھارت روسی تیل سستا خرید کر منافع کما رہا ہے، مگر یہ غلط ہے۔ فارچیون کی رپورٹ میں لٹنک کا بیان ہے کہ بھارت کو ٹیرف کم کرنے چاہیے۔ بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے کہا کہ روسی تیل کی خریداری جاری رہے گی۔ یہ مودی ٹرمپ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنائے گا۔

مستقبل کی سمت: کیا بھارت امریکہ سے دور ہو رہا ہے؟

ترمپ کی غیر متوقع پالیسیاں بھارت کے لیے چیلنج ہیں۔ [نیو یارک ٹائمز] بتاتی ہے کہ ٹیرف بھارت کی روسی تیل خریداری کی سزا ہے۔ SCO سمٹ میں مودی کی پوتن اور شی سے ملاقات نے ترمپ کو ناراض کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو متوازن خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے۔ ایکونومک ٹائمز میں کہا گیا کہ ترمپ کی امن کی پیشکش پر مودی کا ردعمل مثبت ہے، مگر اعتماد کی کمی ہے۔ مودی ٹرمپ تعلقات کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

مودی ٹرمپ تعلقات بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو اجاگر کرتے ہیں۔ ترمپ کی تنقید پر خاموشی اور تعریف پر فوری ردعمل سے لگتا ہے کہ بھارت کی پالیسی ذاتی تعریف پر مبنی ہے۔ 50 فیصد ٹیرف اور روسی تیل کی خریداری سے معاشی چیلنجز بڑھیں گے۔ بھارت کو خودمختار پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ آرٹیکل 2100 شبدو‏ں پر مشتمل ہے اور مزید تحقیق پر مبنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *