جی ایس ٹی اصلاحات 2025 میں ریٹ کٹس سے صارفین کو ریلیف، معیشت میں اضافہ اور جی ڈی پی میں بہتری۔ وزیر خزانہ نرملا سیتھارامن کا کہنا ہے کہ 48 ہزار کروڑ کا خسارہ عوامی مالیات پر اثر نہیں ڈالے گا بلکہ یہ جی ڈی پی کو بڑھائے گا۔
جی ایس ٹی اصلاحات 2025 میں بھارتی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتھارامن نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ریٹ کٹس سے ہونے والا 48 ہزار کروڑ روپے کا تخمینی خسارہ صارفین کی زیادہ خریداری سے پورا ہو جائے گا۔ یہ اصلاحات نہ صرف عوامی مالیات کو متاثر نہیں کریں گی بلکہ جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ بھی کریں گی۔ اس آرٹیکل میں ہم جی ایس ٹی اصلاحات کی تفصیلات، ان کے معاشی اثرات، اور مزید تحقیق کی بنیاد پر تجزیہ پیش کریں گے۔
جی ایس ٹی اصلاحات کا تعارف
جی ایس ٹی اصلاحات بھارتی ٹیکس سسٹم میں ایک انقلابی تبدیلی ہیں جو 2017 میں متعارف کروائی گئی تھیں۔ اب 2025 میں، جی ایس ٹی کونسل نے نئی سلیبس کا اعلان کیا ہے جو 22 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ یہ اصلاحات تقریباً 400 اشیاء کو سستا کریں گی، جن میں صابن، شیمپو، گروسری، کاریں، ٹریکٹر اور ایئر کنڈیشنر شامل ہیں۔

یہ تبدیلیاں نوارتری کے آغاز سے شروع ہو رہی ہیں، جو عوام کے لیے ایک تحفہ کی طرح ہیں۔ وزیر خزانہ نے اسے “عوامی اصلاحات” قرار دیا ہے، کیونکہ یہ ملک کے 140 کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو چھوئے گی۔ غریب ترین شخص بھی جی ایس ٹی سے متاثر ہوتا ہے، اور اب یہ اصلاحات انہیں ریلیف دیں گی۔
جی ایس ٹی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ 1 جولائی 2017 کو نافذ ہوا تھا، جو متعدد ٹیکسوں کو ایک میں ضم کرتا ہے۔ اب جی ایس ٹی اصلاحات 2025 میں سلیبس کو کم کر کے 5% اور 18% کر دیا گیا ہے، جبکہ 40% سلیب لگژری اور سن گڈز کے لیے ہے۔ یہ تبدیلیاں معیشت کو شفاف اور آسان بنائیں گی۔
نئی جی ایس ٹی سلیبس اور ریٹ کٹس
جی ایس ٹی کونسل نے پچھلے ہفتے دو سلیب سٹرکچر کی منظوری دی: 5% اور 18%، جبکہ 40% سلیب سن گڈز جیسے تمباکو اور جوئے کے لیے ہے۔ زیادہ تر خوراک اور گروسری مصنوعات 5% پر ٹیکس ہوں گی، جبکہ بنیادی اشیاء جیسے روٹی، دودھ اور پنیر ٹیکس فری رہیں گی۔
الیکٹرک گاڑیاں اور چھوٹی کاریں 5% سلیب میں آئیں گی، جبکہ دیگر وائٹ گڈز 18% پر۔ یہ موجودہ ریٹس سے کم ہیں، جو پہلے 12%، 18% اور 28% تھے۔ انشورنس پریمیم بھی انفرادی ہیلتھ اور لائف انشورنس پر ٹیکس فری ہوں گے۔
یہ ریٹ کٹس سے اشیاء سستی ہوں گی، جو صارفین کی جیب کو ریلیف دیں گے۔ مثال کے طور پر، ٹریکٹر اور فارم مشینری پر ریٹ کم ہونے سے زراعت کو فروغ ملے گا۔
جی ایس ٹی اصلاحات کا معیشت پر اثر
جی ایس ٹی اصلاحات کا معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ریٹ کٹس سے جی ڈی پی میں 0.1-0.3% اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ صارفین کی زیادہ خریداری سے آئے گا، جو معیشت کو چلائے گی۔
فسکلی طور پر، 48 ہزار کروڑ کا خسارہ تخمینی ہے، لیکن یہ سٹیٹک ہے۔ جب اصلاحات نافذ ہوں گی تو بیس تبدیل ہو جائے گا، اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ فسکلی ڈیفسٹ پر اثر نہیں ڈالے گا، جو 4.4% جی ڈی پی پر رہے گا۔
یہ اصلاحات امریکی ٹیرفس کے خلاف بھی مددگار ہوں گی، جو 50% ہیں۔ جی ایس ٹی اصلاحات سے گھریلو استعمال بڑھے گا، جو ایکسپورٹس کے نقصان کو پورا کرے گا۔
وزیر خزانہ کا بیان اور مالی خسارہ
وزیر خزانہ نرملا سیتھارامن نے پی ٹی آئی کو انٹرویو میں کہا کہ 48 ہزار کروڑ کا خسارہ 22 ستمبر سے استعمال میں اضافے سے پورا ہو جائے گا۔ “یہ فسکلی مینجمنٹ پر اثر نہیں ڈالے گا،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلی سہ ماہی میں 7.8% جی ڈی پی گروتھ سے معیشت 6.3-6.8% کی پروجیکشن سے آگے نکل سکتی ہے۔ یہ گروتھ فارم آؤٹ پٹ اور سروسز سے آئی ہے۔
فسکلی ڈیفسٹ کا ہدف 4.4% ہے، جو 15.69 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یہ اصلاحات اسے برقرار رکھیں گی۔
جی ڈی پی میں اضافہ اور صارفین کی خریداری
جی ایس ٹی اصلاحات سے جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے۔ اکنامک سروے نے 6.3-6.8% پروجیکٹ کیا تھا، لیکن اب یہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ پہلی سہ ماہی کی 7.8% گروتھ چین کی 5.2% سے زیادہ ہے۔
صارفین کی خریداری سے ٹیکس آمدنی بڑھے گی۔ یہ لاہر کرو کا اثر دکھائے گی، جہاں کم ریٹس سے زیادہ استعمال اور آمدنی ہوگی۔
جی ایس ٹی اصلاحات کے شعبہ جاتی اثرات
زراعت اور فارمنگ پر جی ایس ٹی اصلاحات
جی ایس ٹی اصلاحات سے ٹریکٹر اور آبپاشی کے آلات سستے ہوں گے، جو فارم میکینائزیشن کو فروغ دیں گے۔ یہ رورل جی ڈی پی کو بڑھائے گا۔
آٹو اور کنزیومر ڈیور ایبلز
کاریں اور ای وی 5% سلیب میں آئیں گی، جو سیلز بڑھائیں گی۔ سیمنٹ اور کنسٹرکشن کو بھی فائدہ ہوگا۔
ٹیکسٹائل اور ایف ایم سی جی
ٹیکسٹائل پر ریٹ کم ہونے سے ایکسپورٹس بڑھیں گی۔ ایف ایم سی جی میں لاگت کم ہوگی۔
تاریخی پس منظر اور موازنہ
جی ایس ٹی 2017 میں آیا تھا، جو متعدد ٹیکسوں کو ضم کرتا ہے۔ اب 2025 کی اصلاحات جی ایس ٹی 2.0 ہیں۔ پچھلے ریٹ کٹس جیسے 2018 اور 2019 میں آمدنی نہیں گری بلکہ بڑھی۔
یہ اصلاحات کمپلائنس کو آسان بنائیں گی، جو ایس ایم ایز کے لیے فائدہ مند ہیں۔
جی ایس ٹی اصلاحات 2025 بھارتی معیشت کے لیے ایک بڑا قدم ہیں۔ یہ نہ صرف اشیاء کو سستا کریں گی بلکہ جی ڈی پی کو بڑھائیں گی اور فسکلی استحکام برقرار رکھیں گی۔ مزید تحقیق سے یہ واضح ہے کہ یہ اصلاحات طویل مدتی فوائد دیں گی۔