نیپال جنرل زیڈ احتجاج نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے پی شرما اولی نے بدعنوانی اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ 19 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس، پس منظر اور تجزیہ پڑھیں جو نیپال جنرل زیڈ احتجاج کی گہرائی کو سمجھنے میں مدد دے گا۔
نیپال جنرل زیڈ احتجاج نے ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ یہ احتجاج، جو بنیادی طور پر نوجوان نسل یعنی جنرل زیڈ کی قیادت میں ہو رہے ہیں، بدعنوانی، سوشل میڈیا پابندی اور حکومتی نااہلی کے خلاف ہے۔ 9 ستمبر 2025 کو، نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا، جو اس احتجاج کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ خبر نہ صرف نیپال بلکہ پڑوسی ممالک جیسے بھارت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

نیپال جنرل زیڈ احتجاج کا آغاز
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کا آغاز چند ہفتے پہلے ہوا جب حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی۔ نوجوانوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ ابتدائی طور پر پرامن مظاہرے جلد ہی پرتشدد ہو گئے جب پولیس نے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا۔ ریوٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ احتجاج نیپال کی تاریخ کے سب سے بڑے نوجوان تحریکوں میں سے ایک ہے۔
نیپال جنرل زیڈ احتجاج میں نوجوانوں کا کردار مرکزی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم ہوئے اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی۔ الجزیرہ کی لائیو اپ ڈیٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو آگ لگا دی۔
یہ احتجاج صرف کٹھمنڈو تک محدود نہیں بلکہ دیگر شہروں میں بھی پھیل گئے۔ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت بدعنوانی ختم کرے اور شفافیت لائے۔
وزیراعظم کے پی شرما اولی کا استعفیٰ
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کے دباؤ میں، وزیراعظم کے پی شرما اولی نے 9 ستمبر 2025 کو استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ استعفیٰ “مسئلے کے سیاسی حل” کے لیے ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، یہ استعفیٰ احتجاج کی شدت کے بعد آیا جب دوسرے دن بھی تشدد جاری رہا۔
اولی کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے اور اب نئی حکومت کی تشکیل کی بات ہو رہی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی لائیو اپ ڈیٹس میں بتایا گیا کہ مظاہرین نے اولی کی رہائش گاہ کو آگ لگا دی۔
یہ استعفیٰ نیپال جنرل زیڈ احتجاج کی ایک بڑی فتح ہے، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ وہ مکمل تبدیلی چاہتے ہیں۔

پرتشدد مظاہرے اور ہلاکتیں
نیپال جنرل زیڈ احتجاج میں اب تک 19 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، مظاہرین نے نیپالی کانگریس کے دفتر کو آگ لگا دی۔
پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ این ڈی ٹی وی کی لائیو اپ ڈیٹس میں بتایا گیا کہ مظاہرین نے وزیراعظم کے دفتر پر حملہ کیا۔
یہ تشدد نیپال کی تاریخ میں سب سے شدید ہے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ، سنگھا دربار اور سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پابندی اور اس کا خاتمہ
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پابندی تھی۔ حکومت نے اسے اٹھا لیا، لیکن احتجاج جاری رہے۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پابندی کے خلاف نوجوانوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے۔
سوشل میڈیا پابندی نے اظہار رائے کو محدود کیا، جو نوجوانوں کے لیے اہم ہے۔ اب پابندی ختم ہو گئی، لیکن بدعنوانی کے خلاف لڑائی جاری ہے۔
بھارتی بیان اور سرحدی سیکیورٹی
بھارت نے نیپال جنرل زیڈ احتجاج پر بیان جاری کیا، جس میں بھارتی شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی گئی۔ دی کاٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق، انڈیا نیپال سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ انڈیگو اور ایئر انڈیا نے کٹھمنڈو کی فلائٹس منسوخ کر دیں۔ یہ احتجاج پڑوسی ممالک کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
سیکیورٹی چیفس کی اپیل
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کے دوران، فوج اور سیکیورٹی چیفس نے مشترکہ اپیل کی۔ انہوں نے مظاہرین سے تحمل کی اپیل کی اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کو کہا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں یہ بیان شامل ہے۔
اپیل پر دستخط کرنے والوں میں آرمی چیف اشوک راج سگدیل شامل ہیں۔ یہ اپیل استعفیٰ کے بعد آئی۔
سابق وزیراعظم اور دیگر رہنماؤں پر حملے
سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبا اور ان کی اہلیہ پر حملہ ہوا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق، مظاہرین نے کئی رہنماؤں کی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی۔
یہ حملے احتجاج کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مظاہرین کا غصہ پوری سیاسی کلاس پر ہے۔
ہوائی اڈے کی بندش اور فلائٹس کی منسوخی
تریبھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ بند کر دیا گیا۔ کاٹھمنڈو پوسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی وجوہات سے فلائٹس منسوخ ہیں۔ یہ بندش معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ مسافر پھنس گئے ہیں۔
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کا پس منظر
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کی جڑیں ملک کی سیاسی اور معاشی مسائل میں ہیں۔ الجزیرہ کی فیچر رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوجوان بدعنوانی سے تنگ ہیں۔
نیپال کی تاریخ میں احتجاج عام ہیں، جیسے 2006 کی تحریک۔ لیکن یہ جنرل زیڈ کی ہے، جو ٹیکنالوجی سے جڑی ہے۔ بدعنوانی کے الزامات اولی حکومت پر لگتے رہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ “یہ حکومت گرا دیں”۔
عالمی ردعمل
نیپال جنرل زیڈ احتجاج پر عالمی سطح پر ردعمل آیا ہے۔ اے بی سی نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ دہائیوں کا سب سے شدید احتجاج ہے۔ امریکہ اور یورپ نے تشویش کا اظہار کیا۔ بھارت کی سرحدی الرٹ اس کا ثبوت ہے۔
مستقبل کے امکانات
نیپال جنرل زیڈ احتجاج کے بعد، نئی حکومت کی تشکیل ہو سکتی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مظاہرین عبوری حکومت چاہتے ہیں۔ ہوم منسٹر رمیش لیکھک نے بھی استعفیٰ دے دیا، جو X پوسٹس سے پتہ چلتا ہے۔ یہ احتجاج نیپال کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
نیپال جنرل زیڈ احتجاج نے ثابت کر دیا کہ نوجوان تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا استعفیٰ ایک آغاز ہے، لیکن مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ احتجاج نہ صرف نیپال بلکہ خطے کے لیے سبق ہے۔
مزید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ احتجاج بدعنوانی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکے گا۔ نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔