آیت اللہ علی خامنہ ای: ٹرمپ کو ایران کے سپریم لیڈر پر تنقید کی سزا، اپنا لہجہ درست کریں

آیت اللہ علی خامنہ ای پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر وہ معاہدہ چاہتے ہیں تو اپنا لہجہ درست کریں۔ ایران-امریکہ کشیدگی اور جوہری تنازعہ پر تازہ ترین اپ ڈیٹس جانیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای پر ٹرمپ کے متنازعہ ریمارکس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر ایران نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’’بہت بدتر اور ذلت آمیز موت‘‘ سے بچایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں جیت کا ’’جھوٹا‘‘ دعویٰ کیا، جو کہ حقیقت کے منافی ہے۔ ٹرمپ کے ان ریمارکس نے ایران-امریکہ تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

 اللہ علی خامنہ ای: ٹرمپ کو ایران کے سپریم لیڈر پر تنقید کی سزا، اپنا لہجہ درست کریں
اللہ علی خامنہ ای: ٹرمپ کو ایران کے سپریم لیڈر پر تنقید کی سزا، اپنا لہجہ درست کریں

آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کے دوسرے سپریم لیڈر ہیں، نے اپنے ردعمل میں امریکی صدر کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں سے ایرانی جوہری تنصیبات کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی اور امریکہ کو ’’چہرے پر تھپڑ‘‘ مارا۔

ایران کا سخت ردعمل: ٹرمپ کو لہجہ درست کرنے کی ہدایت

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے ریمارکس پر سخت تنقید کی اور انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہشمند ہیں تو آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف ’’ناگوار اور ناقابل قبول لہجے‘‘ کو ترک کرنا ہوگا۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:

 ’’اگر صدر ٹرمپ واقعی معاہدے کے خواہشمند ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر، گرینڈ آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف اپمان آمیز لہجہ چھوڑنا ہوگا اور ان کے لاکھوں مخلص پیروکاروں کو ٹھیس پہنچانا بند کرنا ہوگا۔‘‘

عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی قوم نے حالیہ تنازعہ میں اسرائیل کو ’’امریکہ کے سہارے‘‘ کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا، جو ایران کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم دھمکیوں اور توہین سے نہیں ڈرتی۔

ایران-اسرائیل جنگ اور امریکی مداخلت

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی 13 جون 2025 کو شروع ہوئی، جب اسرائیل نے ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل حملے کیے، جس سے کئی عمارتیں تباہ ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

جنگ کے 12 دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ تاہم، اس جنگ بندی سے قبل امریکہ نے ایران کے تین اہم جوہری تنصیبات—فوردو، نطنز اور اصفہان—پر بمباری کی، جسے ٹرمپ نے ’’شاندار فوجی کامیابی‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا، لیکن امریکی حکام نے خبردار کیا کہ نقصان کا جائزہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ دوسری طرف، آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان حملوں کے اثرات کو ’’معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

امریکی حملوں سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان

امریکہ نے 22 جون 2025 کو ایران کے جوہری تنصیبات پر 14 GBU-57 ’’بنکر بسٹر‘‘ بم گرائے، جو 30,000 پاؤنڈ کے طاقتور ہتھیار ہیں۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف فوردو جوہری تنصیب تھی، جو ایران کے جوہری پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔

ابتدائی طور پر ایران نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا، لیکن بعد میں ایرانی حکام نے تسلیم کیا کہ جوہری تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی دعوے ’’مبالغہ آمیز‘‘ ہیں اور ایران کا جوہری پروگرام اب بھی فعال ہے۔

دوسری طرف، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کر دیا اور وہ دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کی صورت میں ایران پر مزید حملے کریں گے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا دعویٰ: امریکہ کو ’’تھپڑ‘‘

جنگ بندی کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی اور امریکی فضائی اڈے ال عدید (قطر) پر میزائل حملوں کے ذریعے امریکہ کو ’’چہرے پر تھپڑ‘‘ مارا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے دفاع کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔

خامنہ ای کے اس بیان پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ ایران کی فوجی اور معاشی حالت ’’تباہ حال‘‘ ہے۔ انہوں نے خامنہ ای پر ’’جھوٹ بولنے‘‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ خامنہ ای جنگ کے دوران کہاں چھپے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے اسرائیل یا امریکی فوج کو انہیں نشانہ بنانے سے روک دیا۔ 

ایران-امریکہ تعلقات: مستقبل کیا ہوگا؟

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات برسوں سے کشیدہ ہیں، اور حالیہ واقعات نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کے بعد ایران کے خلاف پابندیوں کو ہٹانے پر غور کرنے کا اشارہ دیا تھا، لیکن خامنہ ای کے بیانات کے بعد انہوں نے اس منصوبے کو ترک کر دیا۔

دوسری طرف، ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی ’’جارحیت‘‘ کی مذمت کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ جب تک ایران اپنا بدلہ نہیں لے لیتا، سفارت کاری کے امکانات معدوم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، کیونکہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم، خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے ہمیشہ مزاحمتی پالیسی اپنائی ہے، اور وہ اپنی عوام کو متحد رکھنے کے لیے سخت بیانات جاری کر رہے ہیں۔

عالمی ردعمل اور خطے پر اثرات

ایران-امریکہ تنازعہ نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تجویز پر ووٹنگ کی، جو عالمی تیل کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ تاہم، اس فیصلے کی حتمی منظوری آیت اللہ علی خامنہ ای سے مشروط ہے۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایران کے ممکنہ جوابی اقدامات خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف، ایرانی نژاد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت کو ’’جابرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔

Read More 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *