انتخابی دھاندلی کا ایٹم بم: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس نے جمہوریت پر سوالات اٹھا دیے

انتخابی دھاندلی کا ایٹم بم: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس نے جمہوریت پر سوالات اٹھا دیے

راہل گاندھی نے 7 اگست 2025 کی پریس کانفرنس میں بھارت کے انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت پیش کیے۔ ووٹر لسٹ میں جعلسازی، ڈپلیکیٹ ووٹ، جعلی پتوں اور دیگر سنگین الزامات نے انتخابی کمیشن کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیا بھارت کی جمہوریت خطرے میں ہے؟

راہل گاندھی کی پریس کانفرنس: ایک جائزہ

7 اگست 2025 کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کی جسے انہوں نے بھارت کی جمہوریت کے لیے “ایٹم بم” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے انتخابات میں منظم طریقے سے انتخابی دھاندلی کی جا رہی ہے، جو کہ محض چوری نہیں بلکہ “ڈکیتی” ہے۔ راہل گاندھی نے کرناٹک کے بنگلور سینٹرل لوک سبھا حلقے کی ایک اسمبلی، مہادیوپورہ، کی ووٹر لسٹ کا تجزیہ پیش کیا، جس میں سنگین بے ضابطگیوں کے ثبوت سامنے آئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ووٹر لسٹ کی الیکٹرانک کاپی جاری کرے تاکہ ہر شہری اس کی جانچ کر سکے۔

انتخابی دھاندلی کا ایٹم بم: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس نے جمہوریت پر سوالات اٹھا دیے
انتخابی دھاندلی کا ایٹم بم: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس نے جمہوریت پر سوالات اٹھا دیے

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیے گئے کاغذات مشین سے پڑھنے کے قابل نہیں ہیں، جو کہ ایک دانستہ سازش کا حصہ ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ منظم طریقے سے کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹر لسٹ کا تجزیہ مشکل ہو جائے۔ ان کے مطابق، اگر الیکٹرانک ڈیٹا فراہم کیا جائے تو چند سیکنڈز میں پورے ملک کے انتخابات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

انتخابی دھاندلی کے پانچ طریقے

راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں انتخابی دھاندلی کے پانچ اہم طریقوں کی نشاندہی کی، جو مہادیوپورہ اسمبلی میں پکڑے گئے ہیں

ڈپلیکیٹ ووٹرز: ایک شخص کا نام ووٹر لسٹ میں متعدد بار شامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، گرکیرت سنگھ ڈانگ نامی شخص نے ایک ہی اسمبلی کے چار مختلف بوتھوں پر ووٹ ڈالا۔ اسی طرح، آدتیہ سریواستو نامی شخص کرناٹک، مہاراشٹر، لکھنؤ، اور وارانسی میں ووٹر لسٹ میں شامل تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق، صرف مہادیوپورہ میں 11,965 ڈپلیکیٹ ووٹرز پائے گئے۔

جعلی اور غلط پتے: ووٹر لسٹ میں کئی پتے یا تو موجود ہی نہیں ہیں یا جعلی ہیں۔ مثال کے طور پر، منیپا نامی شخص کا پتہ “ہاؤس نمبر زیرو” درج تھا۔ جب ان پتوں کی تصدیق کی گئی تو وہاں کوئی ووٹر موجود نہیں تھا۔

ایک ہی پتے پر بڑے پیمانے پر ووٹرز: ایک بیڈروم کے گھر میں 80 ووٹرز کا اندراج تھا، لیکن جب وہاں جانچ کی گئی تو کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔ اسی طرح، ایک بریوری (شراب خانہ) میں 68 ووٹرز رجسٹرڈ تھے، جو کہ حقیقت میں موجود نہیں تھے۔

غلط یا غیر واضح تصاویر: ووٹر لسٹ میں کئی ووٹرز کی تصاویر یا تو موجود نہیں تھیں یا اتنی دھندلی تھیں کہ شناخت ناممکن تھی۔ اس سے جعلی ووٹنگ کی راہ ہموار ہوئی۔

فارم 6 کا غلط استعمال: فارم 6 نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے ہوتا ہے، جو عام طور پر 18 سے 23 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔ لیکن مہادیوپورہ میں 33,692 نئے ووٹرز میں سے کئی کی عمر 70، 80، حتیٰ کہ 95 سال تھی۔ مثال کے طور پر، شکون رانی نامی خاتون، جن کی عمر 70 سال تھی، کو نئے ووٹر کے طور پر رجسٹر کیا گیا اور انہوں نے دو بار ووٹ ڈالا۔

ووٹر لسٹ کی جعلسازی: ثبوتوں کی تفصیلات

راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کے فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر اپنے دعووں کو ثابت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے کانگریس کو 7 فٹ بلند اور 300 کلو وزنی کاغذات کے ڈھیر دیے، جنہیں مشین سے پڑھا نہیں جا سکتا۔ اس کی وجہ سے ووٹر لسٹ کی جانچ پڑتال ایک مشکل اور وقت طلب عمل بن گیا۔

مہادیوپورہ اسمبلی کی ووٹر لسٹ کی جانچ کے لیے 30-40 افراد کی ٹیم نے 6 ماہ تک کام کیا۔ اس دوران انہوں نے ہر کاغذ کو الگ الگ چیک کیا، تصاویر نکالیں، اور پتوں کی تصدیق کی۔ اس مشکل عمل کے باوجود، راہل گاندھی کی ٹیم نے ثابت کیا کہ انتخابی دھاندلی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر الیکٹرانک ووٹر لسٹ فراہم کی جاتی تو یہ تجزیہ چند سیکنڈز میں ہو سکتا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن 45 دن کے اندر سی سی ٹی وی فوٹیج کو ختم کر دیتا ہے، جو کہ ممکنہ ثبوتوں کو تباہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن کے عمل میں کوئی گڑبڑ نہیں ہے تو وہ الیکٹرانک ڈیٹا فراہم کرنے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟

الیکشن کمیشن کی خاموشی اور شپتھ پتر کا مطالبہ

راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کے بعد کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ایک ٹویٹ کیا، جس میں ان سے شپتھ پتر پر اپنے الزامات کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ راہل گاندھی نے اپنے تمام دعووں کو الیکشن کمیشن کے ڈیٹا کی بنیاد پر پیش کیا تھا، لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے شپتھ پتر کا مطالبہ کر کے ان کے الزامات کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔

راہل گاندھی نے اسے الیکشن کمیشن کی جانب سے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خود شپتھ پتر پر یہ یقین دہانی کرنی چاہیے کہ 11,965 ڈپلیکیٹ ووٹرز اور ہزاروں جعلی پتے ان کی ووٹر لسٹ کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر الیکشن کمیشن شفاف ہے تو وہ الیکٹرانک ووٹر لسٹ کیوں نہیں جاری کرتا؟

جمہوریت کا مستقبل: عوام کا کردار

راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس میں بھارت کے عوام سے براہ راست اپیل کی کہ وہ اپنی جمہوریت کو بچانے کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کانگریس یا کسی ایک پارٹی کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ووٹر کی آواز کو دبایا جا رہا ہے تو جمہوریت کا وجود خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جمہوریت کو بچانے کے لیے عوام کو الیکشن کمیشن سے الیکٹرانک ووٹر لسٹ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر الیکشن کمیشن شفافیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے 24 گھنٹوں کے اندر ووٹر لسٹ کی الیکٹرانک کاپی اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنی چاہیے۔

کیا بھارت کی جمہوریت خطرے میں ہے؟

راہل گاندھی کی 7 اگست 2025 کی پریس کانفرنس نے بھارت کے انتخابی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کے پیش کردہ ثبوت، جو الیکشن کمیشن کے اپنے ڈیٹا پر مبنی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی ایک منظم اور بڑے پیمانے پر ہونے والا عمل ہے۔ ڈپلیکیٹ ووٹرز، جعلی پتوں، اور فارم 6 کے غلط استعمال جیسے مسائل نے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

بھارت کی جمہوریت کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی شفافیت کو ثابت کرے اور ووٹر لسٹ کی الیکٹرانک کاپی جاری کرے۔ اگر یہ دھاندلی جاری رہی تو بھارت کی جمہوریت، جسے حاصل کرنے کے لیے صدیوں کی جدوجہد کی گئی، خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ عوام کو اب اپنی آواز اٹھانی ہوگی، کیونکہ ووٹ کی طاقت ہی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

Read More 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *