انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا کے حالیہ متنازعہ بیانات نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ خواتین کے خلاف توہین آمیز الفاظ اور سیاسی پروپیگنڈہ کے الزامات نے ان کتھاواچکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس رپورٹ میں مکمل تفصیلات جانیں۔
انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا کے متنازعہ بیانات
حال ہی میں دو مشہور کتھاواچکوں، انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا، کے بیانات نے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کے بیانات نہ صرف خواتین کے خلاف توہین آمیز ہیں بلکہ ان پر سیاسی پروپیگنڈہ کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ ان بیانات نے نہ صرف عوام میں غم و غصہ پیدا کیا بلکہ مذہبی رہنماؤں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان متنازعہ بیانات کی تفصیلات، ان کے پس منظر، عوامی ردعمل، اور ممکنہ قانونی نتائج کا جائزہ لیں گے۔
انیرودھ آچاریہ: خواتین کے خلاف توہین آمیز بیانات
انیرودھ آچاریہ نے اپنے کتھاواچن کے دوران خواتین کے بارے میں نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ان کے ایک بیان میں کہا گیا کہ “25 سال کی لڑکیاں چار جگہ منہ مار چکی ہوتی ہیں” اور “آج کل کی بیویاں اس کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں جو زیادہ پیسہ کماتا ہے”۔ ان بیانات کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک بڑے نیوز چینل نے ان کے الفاظ کو بیپ کرنا پڑا کیونکہ وہ انتہائی نازیبا تھے۔

ان بیانات نے خواتین کی عزت نفس پر سوال اٹھایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ خواتین جو ان کے دربار میں جاتی ہیں، وہ کیوں ان کے سامنے اپنی عزت کو داؤ پر لگاتی ہیں؟ انیرودھ آچاریہ نے ماضی میں اس طرح کے بیانات پر معافی مانگی تھی، لیکن ان کی حالیہ تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے اپنی معافی میں کہا تھا کہ “ناری ہماری لکشمی ہے” اور اگر ان کے الفاظ سے کسی کا دل دکھا تو وہ معافی مانگتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ معافی کافی ہے؟
پرادیپ مشرا: امت شاہ کو بھگوان شیو کا اوتار قرار دینا
دوسری جانب، پرادیپ مشرا نے ایک عوامی اجتماع میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھگوان شیو کا اوتار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “امت شاہ اس کلی یگ کے شیو ہیں، جو خاموش رہتے ہیں اور پھر تانڈو دکھاتے ہیں”۔ اس بیان نے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پرادیپ مشرا مذہبی پلیٹ فارم کا استعمال سیاسی پروپیگنڈہ کے لیے کر رہے ہیں، جو کہ نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ مذہبی جذبات کی توہین بھی ہے۔

امت شاہ خود ماضی میں اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہمات کے دوران اپنے مخالفین کو “دہشت گرد” اور “کساب” جیسے القابات سے نوازا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امت شاہ کو بھگوان شیو سے تشبیہ دینا نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ ہندو مذہب کے پیروکاروں کی توہین بھی ہے۔ بھگوان شیو، جو اپنی سادگی اور بھولے پن کے لیے جانے جاتے ہیں، ان کی عزت کو اس طرح کے سیاسی بیانات سے نقصان پہنچ رہا ہے۔
سیاسی پروپیگنڈہ اور مذہبی پلیٹ فارم کا غلط استعمال
انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا جیسے کتھاواچکوں پر الزام ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کا استعمال بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں پروپیگنڈہ کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مذہبی رہنماؤں پر سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگا ہو۔ ماضی میں بھی دھیرندر شاستری اور رام رحیم جیسے لوگوں پر اس طرح کے الزامات لگ چکے ہیں۔
بی جے پی کے لیے یہ ایک “غیر منصفانہ فائدہ” ہے، کیونکہ بھولی بھالی عوام ان رہنماؤں کے بیانات کو سچ مان لیتی ہے۔ اس سے نہ صرف انتخابی عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ مذہبی جذبات کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماضی میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھگوان وشنو کا اوتار قرار دیا گیا تھا، جس پر بی جے پی کو معافی مانگنی پڑی تھی۔
عوامی ردعمل اور میڈیا کی کوریج
ان بیانات پر عوام کا ردعمل مخلوط رہا ہے۔ جہاں کچھ لوگ انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا کے دفاع میں سامنے آئے ہیں، وہیں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ سوشل میڈیا پر #Aniruddhaacharya اور #PradeepMishra جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں، جہاں لوگ ان کے بیانات کو خواتین کے خلاف نفرت انگیز اور سیاسی طور پر غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں۔
مین اسٹریم میڈیا، جیسے کہ *آج تک، نے بھی ان بیانات کو کور کیا ہے اور انہیں “بے شرم بابا” جیسے القابات سے نوازا ہے۔ تاہم، کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا بھی اس معاملے میں مکمل غیر جانبدار نہیں رہا اور بعض چینلز ان رہنماؤں کو پروموٹ کرنے میں ملوث ہیں۔
قانونی کارروائی اور خواتین کمیشن کی خاموشی
انیرودھ آچاریہ کے خواتین کے خلاف توہین آمیز بیانات پر اتر پردیش اور قومی خواتین کمیشن کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوگی؟ کیا ایف آئی آر درج کی جائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو عوام پوچھ رہی ہے۔ ماضی میں ساجد رشیدی نامی ایک مولانا کے خلاف ڈمپل یادو کے بارے میں نازیبا ریمارکس پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی، لیکن انیرودھ آچاریہ کے معاملے میں کوئی ٹھوس ایکشن نظر نہیں آ رہا۔
خواتین کمیشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں سخت کارروائی کرے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے بیانات پر روک نہ لگائی گئی تو یہ سماج میں خواتین کے خلاف نفرت کو مزید ہوا دے گا۔
سماجی ذمہ داری اور مذہبی رہنماؤں کا کردار
مذہبی رہنماؤں کا معاشرے میں ایک اہم مقام ہوتا ہے، لیکن جب وہ اپنے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ انیرودھ آچاریہ اور پرادیپ مشرا جیسے رہنماؤں کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے اور اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کے رہنماؤں کے بیانات کو تنقیدی نظر سے دیکھیں اور ان سے سوال کریں۔ آخر میں، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں جہاں خواتین کی عزت ہو اور مذہبی پلیٹ فارم کا استعمال سیاسی ایجنڈوں کے لیے نہ کیا جائے۔