راہول گاندھی کی ووٹر ادھکار یاترا بہار کے ساسارام سے شروع ہو رہی ہے، جو ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کے خلاف ایک بڑی تحریک ہے۔ یہ یاترا 16 دنوں تک جاری رہے گی اور پٹنہ میں اختتام پذیر ہوگی
ووٹر ادھکار یاترا: بہار میں ووٹ چوری کے خلاف راہول گاندھی کی جدوجہد
آج، 17 اگست 2025 کو، کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بہار کے روہتاس ضلع کے دیہری سے اپنی ووٹر ادھکار یاترا کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ 16 روزہ یاترا انتخابی اصلاحات کو فروغ دینے اور ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔ اس یاترا کا آغاز ساسارام کے سورا ایروڈروم گراؤنڈ سے ایک عظیم الشان ریلی کے ساتھ ہوگا اور یہ پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں یکم ستمبر کو ایک بڑی ریلی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔

یہ یاترا نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی انتخابی سیاست میں ایک نئی جہت متعارف کروانے کی کوشش ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما کشور کمار جھا کے مطابق، “یہ یاترا انتخابی شفافیت کے لیے عوام کو متحرک کرے گی اور ووٹ کے حق کی حفاظت کے لیے ایک بڑی تحریک بنے گی۔”
ووٹر ادھکار یاترا کا مقصد اور اہمیت
ووٹر ادھکار یاترا کا بنیادی مقصد خصوصی انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری (Special Intensive Revision – SIR) کے عمل پر تنقید کرنا ہے، جس کے بارے میں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے گئے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ عمل پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور مہاجر مزدوروں کو نشانہ بناتے ہوئے ووٹوں کی چوری کا ایک منظم منصوبہ ہے۔
راہول گاندھی نے اس یاترا کو “ووٹ چوری کے خلاف براہ راست لڑائی” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بہار کی سرزمین سے جمہوریت کی حفاظت کی تحریک ہے۔ اس یاترا میں ان کے ساتھ انڈیا اتحاد کے اہم رہنما شامل ہوں گے، جن میں آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، سی پی آئی (ایم ایل) کے دیپنکر بھٹاچاریہ، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے شامل ہیں۔
اس یاترا کا نعرہ “اب کی بار، ووٹ چوروں کی ہار” اس کی جارحانہ حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ یاترا 1300 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرے گی اور بہار کے 20 سے زیادہ اضلاع میں عوامی جلسوں، پیدل مارچ، اور ہائبرڈ ریلیوں کے ذریعے جعلی ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی سالمیت کے مسائل کو اجاگر کرے گی۔
یاترا کا روٹ اور شیڈول
ووٹر ادھکار یاترا کا شیڈول درج ذیل ہ
17 اگست: ساسارام کے سورا ایروڈروم گراؤنڈ میں عظیم الشان افتتاحی ریلی۔
18 اگست: اورنگ آباد ضلع کے کٹمبا میں دیو روڈ امبا سے پیدل مارچ۔
19 اگست: گیا اور نوادہ کے علاقوں میں ہنومان مندر، پوناما وزیری گنج میں سرگرمیاں۔
20 اگست: آرام اور مقامی تعاملات کے لیے وقفہ۔
21 اگست: شیخوپورہ کے تین موہنی درگا مندر سے لکھیسری علاقے میں داخلہ۔
22 اگست: بھاگلپور ڈویژن کے ووٹرز پر توجہ دیتے ہوئے منگیر کے چندن باغ چوک میں سرگرمیاں۔
23 اگست: کٹیہار کے براری میں کرسیلا چوک سے شمال مشرقی بہار میں داخلہ۔
24 اگست: کٹیہار سے پورنیا تک خوشکی باغ کے راستے پیدل مارچ۔
25 اگست: حکمت عملی اجلاس کے لیے وقفہ۔
26 اگست: مدھوبنی ڈویژن کے سپول میں حسین چوک پر سرگرمیاں۔
27 اگست: دربھنگہ کے گنگوارا مہاویر استھان میں مقامی لوگوں سے ملاقات۔
28 اگست: سیتامڑھی ضلع کے ریگا روڈ پر پیدل مارچ۔
29 اگست: مغربی چمپارن کے بیٹیہ میں ہریواٹیکا گاندھی چوک پر پیدل مارچ۔
30 اگست: سارن ضلع کے ایگما اسمبلی میں ایگما چوک سے آرہ تک یاترا۔
31 اگست: اختتامی تیاریوں کے لیے وقفہ۔
یکم ستمبر: پٹنہ کے گاندھی میدان میں انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ عظیم الشان ووٹر ایڈھکار ریلی۔
یہ یاترا بہار کے متنوع علاقوں سے گزرے گی اور عوام کو انتخابی مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کرے گی۔
اپوزیشن کے الزامات اور SIR تنازع
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ SIR عمل کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے نام ہٹانے کا عمل غیر شفاف ہے اور اس کا مقصد پسماندہ طبقات، اقلیتوں، اور مہاجر مزدوروں کے ووٹنگ کے حق کو کمزور کرنا ہے۔ راہول گاندھی اور ان کے اتحادیوں نے اس عمل کو “ووٹ چوری” قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ حکمراں این ڈی اے اتحاد کی جانب سے انتخابی دھاندلی کی کوشش ہے۔
دوسری جانب، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چوہدری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ SIR ایک شفاف عمل ہے جو انتخابی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ساکھ کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
این ڈی اے کا ردعمل
این ڈی اے رہنماؤں نے ووٹر ادھکار یاترا کو بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹرز کو گمراہ کرنے کی ایک چال قرار دیا ہے۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی ترجمان راجیو رنجن پرساد نے اس یاترا کو “افراتفری پھیلانے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپوزیشن کی کمزور انتخابی امکانات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے بہار کے عوام کا مکمل اعتماد رکھتی ہے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
بہار کی سیاسی صورتحال
بہار کی سیاسی صورتحال حالیہ برسوں میں کافی پیچیدہ رہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انڈیا اتحاد نے بہار میں شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں راہول گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران جن علاقوں کا دورہ کیا گیا، وہاں اتحاد کے امیدواروں نے تقریباً تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ ملک بھر میں انڈیا اتحاد نے 234 سیٹیں جیت کر این ڈی اے کے 292 سیٹوں کے مقابلے میں مضبوط مقابلہ کیا۔
بہار میں 40 فیصد سے زائد نوجوان ووٹرز ہیں، جو موجودہ این ڈی اے حکومت سے مایوس ہیں۔ ووٹر ادھکار یاترا اس مایوسی کو سیاسی تحریک میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
یاترا کا ممکنہ اثر
ووٹر ایڈھکار یاترا بہار کی سیاسی فضا کو گرم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ یاترا نہ صرف انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی بلکہ انڈیا اتحاد کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گی۔ راہول گاندھی کی قیادت میں یہ یاترا عوام کے درمیان انتخابی شفافیت اور ووٹ کے حق کے لیے ایک بڑی آواز بن سکتی ہے۔
تاہم، این ڈی اے کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ یاترا اپوزیشن کی انتخابی کمزوریوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے اور بہار کے عوام نتیش کمار کی قیادت پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔