ویرات کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل: بی سی سی آئی کا بڑا فیصلہ، انڈیا اے میچز کو ترجیح

ویرات کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل: بی سی سی آئی کا بڑا فیصلہ، انڈیا اے میچز کو ترجیح

ویرات کوہلی اور روہیت شرما کے ون ڈے کیریئر کا مستقبل انڈیا اے میچز پر منحصر ہے۔ بی سی سی آئی کے کچھ اراکین وجے ہزارے ٹرافی کے بجائے انڈیا اے میچز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اجیت اگارکر کریں گے حتمی فیصلہ۔

ویرات کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل خطرے میں؟

ویرات کوہلی اور روہیت شرما، بھارتی کرکٹ کے دو عظیم ستاروں کے ون ڈے کیریئر کا مستقبل ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ نے یہ دعویٰ کیا کہ اگر یہ دونوں کھلاڑی 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے بھارتی ٹیم میں جگہ بنانا چاہتے ہیں، تو انہیں ڈومیسٹک کرکٹ، خاص طور پر وجے ہزارے ٹرافی میں شرکت کرنا ہوگی۔ تاہم، ایک تازہ رپورٹ نے اس بحث کو نئی جہت دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے کچھ اراکین وجے ہزارے ٹرافی کے بجائے انڈیا اے میچز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس فیصلے کی ذمہ داری چیف سلیکٹر اجیت اگارکر پر ہوگی، جو یہ طے کریں گے کہ کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل کیا ہوگا۔

ویرات کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل: بی سی سی آئی کا بڑا فیصلہ، انڈیا اے میچز کو ترجیح
ویرات کوہلی اور روہیت کا ون ڈے مستقبل: بی سی سی آئی کا بڑا فیصلہ، انڈیا اے میچز کو ترجیح

یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب بھارت کا انگلینڈ کا دورہ مکمل ہوا، اور اگلا بین الاقوامی میچ اگلے ماہ متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ کے لیے شیڈول ہے۔ اس دوران، کوہلی اور روہیت کے ون ڈے کیریئر کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ کیا یہ دونوں لیجنڈز انڈیا اے میچز میں کھیل کر اپنی فٹنس اور فارم ثابت کریں گے؟ آئیے اس خبر کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

بی سی سی آئی کا نیا منصوبہ: انڈیا اے میچز کی ترجیح

بی سی سی آئی کے ایک ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ بورڈ کے کچھ اراکین کا خیال ہے کہ کوہلی اور روہیت کو وجے ہزارے ٹرافی کے بجائے انڈیا اے کے 50 اوورز کے میچز میں شرکت کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وجے ہزارے ٹرافی کا شیڈول بین الاقوامی میچز سے ٹکرا رہا ہے، جس کی وجہ سے دونوں کھلاڑیوں کے لیے اس میں شرکت مشکل ہوگی۔

انڈیا اے کے میچز آسٹریلیا اے کے خلاف 30 ستمبر، 3 اکتوبر اور 5 اکتوبر کو کانپور میں کھیلے جائیں گے۔ یہ میچز اس وقت ہوں گے جب بھارتی سینئر ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف احمد آباد میں پہلا ٹیسٹ کھیل رہی ہوگی۔ اس کے علاوہ، نومبر میں جنوبی افریقہ اے کے خلاف تین ون ڈے میچز راجکوٹ میں 13، 16 اور 19 نومبر کو شیڈول ہیں۔ بی سی سی آئی کا خیال ہے کہ یہ میچز کوہلی اور روہیت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس کو جانچنے کا بہترین موقع فراہم کریں گے۔

وجے ہزارے ٹرافی کیوں نہیں؟

وجے ہزارے ٹرافی، جو بھارت کی سب سے بڑی ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ ہے، 24 دسمبر 2025 سے شروع ہوگی اور 18 جنوری 2026 تک جاری رہے گی۔ تاہم، اس دوران بھارت کے بین الاقوامی میچز کا شیڈول اسے کوہلی اور روہیت کے لیے ناقابلِ عمل بناتا ہے۔ بھارت کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز (19-25 اکتوبر) اور جنوبی افریقہ کے خلاف میچز کھیلنے ہیں۔ اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ کے خلاف تین ون ڈے میچز (11، 14 اور 18 جنوری) بھی وجے ہزارے ٹرافی کے ساتھ اوورلیپ کر رہے ہیں۔

بی سی سی آئی کے ایک ذریعے نے کہا، “اگر وہ وجے ہزارے ٹرافی کھیلتے بھی ہیں، تو وہ اس سے پہلے چھ ون ڈے میچز کھیل چکے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، انڈیا اے کے میچز ان کے لیے زیادہ اہم ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی سطح کے قریب تر مقابلہ فراہم کریں گے۔”

انڈیا اے میچز کی اہمیت

انڈیا اے میچز کو بی سی سی آئی کیوں ترجیح دے رہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ میچز کوہلی اور روہیت کو اعلیٰ معیار کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کا موقع دیں گے۔ آسٹریلیا اے کے خلاف سیریز میں جیک فریزر-میک گرگ جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی شامل ہوں گے، جو بھارتی کھلاڑیوں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح، جنوبی افریقہ اے کے خلاف میچز بھی سخت مقابلے کا وعدہ کرتے ہیں۔

ان میچز میں شرکت نہ صرف کوہلی اور روہیت کی فارم کو جانچنے میں مدد دے گی بلکہ انہیں بھارتی سلیکشن کمیٹی کے سامنے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔ بی سی سی آئی کا خیال ہے کہ ان میچز میں اچھی کارکردگی 2027 ورلڈ کپ کے لیے ان کے انتخاب کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔

اجیت اگارکر کا کردار

بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق، حتمی فیصلہ چیف سلیکٹر اجیت اگارکر اور ان کی ٹیم پر منحصر ہوگا۔ اگارکر کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا کوہلی اور روہیت کو انڈیا اے میچز میں کھیلنا چاہیے یا نہیں۔ ذرائع نے کہا، “سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں کھلاڑی ان تینوں یا کم از کم دو انڈیا اے میچز کھیلنا چاہیں گے؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا اگارکر اور ان کے ساتھی اسے ضروری سمجھیں گے؟”

اگارکر کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی نے حالیہ برسوں میں سخت فیصلے لیے ہیں، اور وہ کھلاڑیوں کی فارم اور فٹنس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر کوہلی اور روہیت ان میچز میں شرکت نہیں کرتے یا اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتے ہیں، تو ان کا ون ڈے کیریئر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

کوہلی اور روہیت کا حالیہ کیریئر

کوہلی اور روہیت نے جون 2024 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جب بھارت نے بارباڈوس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد، مئی 2025 میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ سے بھی اچانک ریٹائرمنٹ لے لی، جس سے وہ صرف ون ڈے فارمیٹ میں فعال بین الاقوامی کرکٹرز رہ گئے ہیں۔

ان کا آخری ون ڈے میچ مارچ 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کے دوران تھا۔ بنگلہ دیش کا دورہ منسوخ ہونے کی وجہ سے وہ اب تک بین الاقوامی کرکٹ میں واپس نہیں آسکے۔ ان کی اگلی سیریز آسٹریلیا کے خلاف 19-25 اکتوبر کو شیڈول ہے، اور اس سے پہلے انڈیا اے میچز ان کے لیے اہم امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔

آنے والے ون ڈے میچز کا شیڈول

بھارت کا آئندہ ون ڈے شیڈول کچھ یوں ہے
آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز: 19-25 اکتوبر 2025
جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز: نومبر 2025
نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز: 11، 14، 18 جنوری 2026

اس کے علاوہ، انڈیا اے کے میچز مندرجہ ذیل ہیں
آسٹریلیا اے کے خلاف: 30 ستمبر، 3 اکتوبر، 5 اکتوبر (کانپور)
جنوبی افریقہ اے کے خلاف: 13، 16، 19 نومبر (راجکوٹ)

یہ میچز کوہلی اور روہیت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس کو ثابت کرنے کا سنہری موقع ہیں۔

2027 ورلڈ کپ کے امکانات

2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ کوہلی اور روہیت کے کیریئر کا ایک اہم ہدف ہے۔ دونوں کھلاڑی اس وقت بالترتیب 39 اور 40 سال کے ہوں گے، جو کہ ون ڈے کرکٹ کے لیے ایک چیلنجنگ عمر ہے۔ تاہم، ان کی فٹنس اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، وہ اب بھی بھارتی ٹیم کے لیے اہم اثاثہ ہو سکتے ہیں۔

بی سی سی آئی کا خیال ہے کہ اگر وہ انڈیا اے میچز میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، تو وہ نہ صرف اپنی جگہ برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ نئے کھلاڑیوں کے لیے رہنما بھی بن سکتے ہیں۔ تاہم، اگر وہ ان میچز میں ناکام رہتے ہیں یا شرکت سے گریز کرتے ہیں، تو سلیکشن کمیٹی نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے پر غور کر سکتی ہے۔

کیا کوہلی اور روہیت واپسی کریں گے؟

ویرات کوہلی اور روہیت شرما کے ون ڈے مستقبل کا فیصلہ ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اگر وہ انڈیا اے میچز میں شرکت کرتے ہیں اور اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، تو وہ نہ صرف 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے اپنی جگہ پکی کر سکتے ہیں بلکہ بھارتی کرکٹ کے نئے دور میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، بی سی سی آئی اور اجیت اگارکر کی نظر ان کی فٹنس، فارم اور عزم پر ہوگی۔

کیا یہ دونوں لیجنڈز ان چیلنجز سے عہدہ برآ ہوں گے؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔

 Read More 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *