گری کیرسٹن: پانچویں ٹیسٹ کی فتح پر گیمبھیر کی شاندار کوچنگ کی تعریف کی

گری کیرسٹن: پانچویں ٹیسٹ کی فتح پر گیمبھیر کی شاندار کوچنگ کی تعریف کی

گری کیرسٹن نے اپنے سابق شاگرد گیمبھیر کی کوچنگ کی تعریف کی جب ہندوستان نے انگلینڈ کے خلاف پانچویں ٹیسٹ میں سنسنی خیز فتح حاصل کی۔ جانیں کہ کس طرح گیمبھیر کی کوچنگ نے ہندوستان کو اینڈرسن-ٹنڈولکر ٹرافی میں کامیابی دلائی

گیمبھیر کی کوچنگ نے ہندوستان کو فتح دلائی: گری کیرسٹن کی شاندار تعریف

ہندوستان کے سابق ہیڈ کوچ گری کیرسٹن نے اپنے سابق شاگرد گوتھم گیمبھیر کی کوچنگ کی زبردست تعریف کی ہے جب ہندوستان نے انگلینڈ کے خلاف اینڈرسن-ٹنڈولکر ٹرافی کے پانچویں ٹیسٹ میں سنسنی خیز فتح حاصل کی۔ اوول میں کھیلے گئے اس میچ میں ہندوستان نے 6 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز 2-2 سے برابر کر لی، جو گیمبھیر کی کوچنگ کے تحت ایک بڑی کامیابی ہے۔

گری کیرسٹن: پانچویں ٹیسٹ کی فتح پر گیمبھیر کی شاندار کوچنگ کی تعریف کی
گری کیرسٹن: پانچویں ٹیسٹ کی فتح پر گیمبھیر کی شاندار کوچنگ کی تعریف کی

گری کیرسٹن، جنہوں نے 2011 کے ورلڈ کپ میں ہندوستان کو فتح دلائی تھی، نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا
“میں بہت خوش ہوں کہ ہندوستان نے سیریز برابر کی۔ یہ ہندوستانی کرکٹ کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ گیمبھیر کی کوچنگ نے ٹیم کو دباؤ میں شاندار کارکردگی دکھانے میں مدد کی۔ میں نے اس کے ساتھ بہت کام کیا ہے، اور مجھے اس کی کامیابی پر فخر ہے۔”

یہ فتح ہندوستان کے لیے ایک جذباتی لمحہ تھا، کیونکہ سیریز میں 0-1 اور پھر 1-2 سے پیچھے ہونے کے باوجود ٹیم نے شاندار واپسی کی۔ گیمبھیر کی کوچنگ نے نہ صرف ٹیم کے حوصلے بلند کیے بلکہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کیا۔

گری کیرسٹن کی گیمبھیر کی کوچنگ پر تعریف

گری کیرسٹن نے گیمبھیر کی کوچنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ہندوستان نے نہ صرف تکنیکی طور پر بہتری دکھائی بلکہ دباؤ میں فیصلہ سازی میں بھی کمال کیا۔ کیرسٹن نے 2011 کے ورلڈ کپ میں گیمبھیر کے ساتھ کام کیا تھا، جہاں گیمبھیر نے فائنل میں 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

کیرسٹن نے کہا
 “گیمبھیر ہمیشہ سے ایک ذہین کرکٹر رہا ہے۔ اس کی کوچنگ میں وہی جذبہ اور عزم دیکھا جا سکتا ہے جو اس کے کھیل میں تھا۔ اس نے ٹیم کو مشکل حالات میں متحد کیا اور فتح کی راہ ہموار کی۔”

یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گیمبھیر کی کوچنگ نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیاب رہی بلکہ ان کی ذہنی مضبوطی کو بھی بڑھایا۔

ہندوستان کی انگلینڈ کے خلاف ڈرامائی فتح

اوول ٹیسٹ ہر لحاظ سے ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا۔ انگلینڈ کو آخری دن صرف 35 رنز درکار تھے، جبکہ ہندوستان کو چار وکٹیں لینے کی ضرورت تھی۔ محمد سراج اور پرسیدھ کرشنا نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے انگلینڈ کے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا۔ سراج نے اپنی آخری وکٹ میں گس ایٹکنسن کو ایک زبردست یارکر پر بولڈ کیا، جس نے ہندوستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔

میچ کے بعد گیمبھیر کی خوشی دیکھتے ہی بنتی تھی۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹین ڈوشاٹے اور بولنگ کوچ مورن مورکل کے ساتھ جذباتی لمحات شیئر کیے۔ ٹیم نے اوول کے گراؤنڈ میں فتح کا جشن مناتے ہوئے شائقین کے ساتھ ایک وکٹری لیپ بھی لیا۔

گیمبھیر کی کوچنگ کا سفر: چیلنجز سے کامیابی تک

گوتھم گیمبھیر نے پچھلے سال ہندوستان کے ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن ان کا سفر آسان نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہارنے کے بعد ان پر تنقید کی گئی تھی۔ تاہم، انگلینڈ کے خلاف سیریز میں 1-2 سے پیچھے ہونے کے باوجود ٹیم کی واپسی نے ان کی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔

گیمبھیر کی کوچنگ کا سب سے بڑا کمال یہ رہا کہ انہوں نے ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر بھروسہ کیا اور انہیں مشکل حالات میں کھل کر کھیلنے کی آزادی دی۔ محمد سراج، پرسیدھ کرشنا، اور دیگر کھلاڑیوں نے اس سیریز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ہندوستان کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی

اس سیریز میں ہندوستان کے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ محمد سراج نے آخری ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پرسیدھ کرشنا نے بھی اہم مواقع پر وکٹیں لیں۔ بیٹنگ میں بھی ہندوستان کے کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر اوول ٹیسٹ میں، جہاں ٹیم نے مشکل حالات میں رنز بنائے۔

گیمبھیر کی کوچنگ نے ٹیم کی حکمت عملی کو بہتر بنایا، خاص طور پر بولنگ یونٹ کی تیاری میں۔ مورن مورکل کی رہنمائی میں ہندوستانی گیند بازوں نے انگلینڈ کے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔

گری کیرسٹن کا ہندوستان کے کھیلوں کے کلچر پر تبصرہ

گری کیرسٹن نے ہندوستان کے کھیلوں اور تعلیمی کلچر کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہے، جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔

انہوں نے کہا:
> “ہندوستان میں کھیلوں کا کلچر بہت مضبوط ہے۔ یہاں تعلیم پر بھی بہت زور دیا جاتا ہے، جو نوجوانوں کی ہر شعبے میں ترقی کے لیے ضروری ہے۔ جنوبی افریقہ سمیت دیگر ممالک اس سے سیکھ سکتے ہیں۔”

کیرسٹن فی الحال جنوبی افریقہ میں نوجوانوں کی ترقی کے پروگراموں سے وابستہ ہیں، لیکن ان کا ہندوستان سے گہرا لگاؤ ہے۔

ہندوستان کی کرکٹ کا مستقبل

گیمبھیر کی کوچنگ کے تحت ہندوستان کی کرکٹ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اس سیریز کی فتح نے نہ صرف ٹیم کا حوصلہ بڑھایا بلکہ گیمبھیر کی قیادت کو بھی مضبوط کیا۔ آئندہ سیریز میں ہندوستان سے مزید شاندار کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔

ہندوستان کی کرکٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کی آمد اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کو ایک متوازن یونٹ بناتی ہے۔ گیمبھیر کی کوچنگ اس ٹیم کو مزید بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔

One thought on “گری کیرسٹن: پانچویں ٹیسٹ کی فتح پر گیمبھیر کی شاندار کوچنگ کی تعریف کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *